قبائل: دا زان لہ صوبہ دہ

کچھ صحافتی مجبوریاں تھیں اور کچھ قبائلی ساتھیوں کا بے پناہ پیار کہ ان سے اور بالخصوص قبائیلی خطہ میں صحافت کے بانی رہنما مرحوم سیلاب محسود کی توجہ اور سرپرستی کے باعث تھوڑا بہت قبائیلی خطہ کو جاننے کا موقعہ ملا۔

آج میں جو رائے بھی رکھتا ہوں اس کے پیچھے ان تمام ساتھیوں کی دو دہائیوں پر محیط کوششیں ہیں۔ کچھ عرصہ قبل محترم ناصر داوڑ کے ساتھ ملکر شمالی وزیرستان میں وقت گزارنے کا موقعہ ملا یقین مانیئے جو خدشات انظمام سے قبل تھے اس کا صرف عملی نمونہ دیکھ رہا تھا۔ پہلے تو خود پر حیرت ہوئی لیکن اس کے بعد یاد آیا کہ اتنا عرصہ اتنے قریب سے وقت گزارنے کے بعد میرے لئیے یہ اندازے لگانا کوئی کمال کی بات نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: میڈیا اور آپ کی کھال
میں سمجھتا ہوں کہ گوروں نے ایک سو بیس سال قبل جب ایف سی آر وضع کیا تھا اور یہ نظام سو سال تک چلتا رہا تو اس کے خاتمہ اور انہی کے ہی وضع کردہ نظام کو لاگو کرنے میں مرحلہ وار طریقہ اختیار کیا جاتا تو شاید یہ صورتحال نہ ہوتی۔ کچھ ساتھی شاید اختلاف کریں لیکن ذرا زمینی حقائق دیکھ لیں۔ وہ گورے جنہوں نے وہ نظام تشکیل دیا تھا جس پر قبائیلی معاملات چل رہے تھے اور وہ گورے جنہوں نے یہ نظام بھی تشکیل دیا ہے جس پر اب ہم مل کر ان علاقوں کو چلا رہے ہیں اور ہم سب مل کر بھی ان کے تشکیل کردہ نظام کے متبادل کو نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں وہ گورے جب خود اکیسویں صدی میں بریگزیٹ یعنی یورپ سے علیحدگی کا فیصلہ کر رہے تھے تو اس ایک فیصلہ پر کئی حکومتوں کو گھر جانا پڑا اور اب بھی وہ سوچ رہے ہیں کہ کیا یہ اچھا تھا یا برا؟ ذرا سوچیں کہ اسی طرح کے انظمام کے فیصلہ پر انہوں نے کتنا وقت لیا اور کیا کیا قربان کیا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ریفرنڈم کیا خاک ہوتا بس پارلیمنٹ کے ذریعہ قانون سازی ہوئی اس پارلیمنٹ کے ذریعہ کہ جس میں اکثریت کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ شکتوئی کہاں ہے،

ماموند اور مومند میں فرق کیا ہے، جرگہ کی تشکیل و عمل کسطرح جاری رہتا ہے، نیکت کی تقسیم کیا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب مسائل آڑے آ رہے ہیں۔ میں قطعاً یہ نہیں سمجھتا کہ انظمام غلط ہے، آئین کی رسائی غلط ہے لیکن یہ سب کرنے کے لئیے پہلے زمین تیار کی جاتی اس کے بعد بتدریج آگے بڑھا جاتا۔ اس وقت تو مجھے نہیں معلوم کہ کونسا قانون لاگو ہے۔ ذرا سادہ الفاظ میں بیاں کروں تو یوں کہ نام کے پولیس سٹیشن ہیں جس میں زیادہ تر اہلکاروں کو سی آر پی سی CRPC یا سی پی سی CPC کا پتا نہیں دفعات تو دور کی بات۔ اب اگر جرم ہو تو کس قانون کے تحت پرچہ درج کیا جائے۔ اس طرح آراضی کے مقدمات، میں ماتحت عدلیہ کے کئی ساتھیوں کو جانتا ہوں کہ جو سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کہ فیصلے کس طرح کریں۔ جرائم میں Political Terretory اور Tribal Terretory یعنی سرکاری شاہراہ اور قومی اراضی کا تصور تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کب کا دم توڑ چکا ہے اب آگے کس طرح چلایا جائے یہ سمجھ نہیں آ رہی۔

یہ بھی پڑھیں: صحافی بڑے نہیں ہوتے مالکان بڑے ہوتے ہیں

میں نے عرض کیا کہ میری اپنی کوئی سمجھ نہیں لیکن اپنے قبائیلی دوستوں اور مشران سے سن سن کر یہ سوالات تنگ کر رہے ہیں کہ عجلت کیا تھی۔ چونکہ ایک ترقی پذیر ملک کا صحافی ہوں اس لئیے کئی سازشی تھیوریز پر یقین بھی کیا لیکن پھر بھی اس یہ حل تو نہیں تھا کہ جو اب ہے۔ قبائیلی سوچ و مزاج کے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی اگر قوانین بدلنے تھے تو ساتھ قبائیلی نظام کے بطن سے جن رواجوں اور مزاجوں نے جنم لیا تھا اس کو بدلنے کے لئیے وقت درکار تھا۔ ہمارا قبائیلی معاشرہ ابھی تک قبائیلی مزاج سے باہر نہیں نکلا اور یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے کہ جس پر زیادہ سوچا جائے۔ پھر یہ سب کیوں؟
حقیقت تو یہ ہے کہ قبائیلی علاقوں کو ہم نے اس تاریک کنویں میں بدلا ہے کہ پہلے وہاں روشنیاں لانے کے لئیے ہمیں کئی دہائیاں درکار ہیں۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ ہجرت بسا اوقات فائدہ مند ثابت ہوئی۔ آپریشن کے بعد جب قبائیلی نوجوان ان دور دراز علاقوں سے نکل کر کراچی تا پشاور پہنچے اور تعلیم کے مقابلہ میں پڑ گئے تو آج آپ دیکھ لیں آپ کو کئی قبائیلی لڑکے لڑکیاں باقاعدہ پوزیشن ہولڈر ملیں گے۔ گویا قدرت نے ان کو قومی دھارے میں شامل کر لیا۔ لیکن خود قبائیلی علاقہ اب بھی صحت و تعلیم کے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اکیسویں صدی میں بھی انٹرنیٹ کے لئیے مظاہروں پر مجبور ہیں۔
اگر اس انداز سے ان علاقوں میں انفراسٹرکچر کی فراہمی کے بغیر انتظامی تبدیلی خواہشات اور ضد سے چلانے کی کوشش کی گئی تو اس سے انتشار جنم لے گا۔ بلکہ جنم لے چکا ہے لیکن شاید حکمرانوں کو نظر نہیں آ رہا ہے۔

ٹیگز

سید فخر کاکا خیل

سید فخر کاکا خیل بے باک آواز کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر، ریسرچر، پروڈیوسر اور صحافی ہیں جو کہ مختلف قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے سیاسی اور سماجی امور کے حوالے سے ماہر جانے جاتے ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close