شیعہ سنی عالمی جنگ۔ یا پھر اسرائیل تسلیم؟ کہانی کیا ہے؟

لکھنے کا ارادہ کسی اور موضوع ہر تھا لیکن ممتاز بنگش  ہھی چونکہ بے باک آواز کی ایڈیٹوریل کے شریک ملزم ہیں اس لیے انہوں نے کوہاٹ اور گردونواح میں ہر کچھ عرصہ بعد مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں میں چپقلش کے موضوع پر لکھنے کا مشورہ دیا۔

کوہاٹ میں مشتعل جلوس پولیس کی فائرنگ مجھے یہاں سے ہزاروں میل دور کئی دہائیاں پیچھے سعودی عرب لے گئی جب ٹی وی کے خلاف نکلنے والے جلوس نے اس وقت کے سعودی بادشاہ اور مسلم امہ کے طاقتور لیڈر شاہ فیصل کی جان لی۔

کیوں لگتی ہے نا عجیب بات کہاں ٹی وی کہاں شاہ فیصل کا قتل! بہت سے لوگ تو سمجھتے ہیں کہ ان کو امریکہ نے شہید کیا تھا۔ حالانکہ ان کو انہی کے بھتیجے فیصل بن موسید نے محل کے اندر گولی مار کر قتل کیا تھا۔

کیوں؟ ہاں اب یہ اہم سوال ہے۔ شاہ فیصل کے بھتیجے نے دراصل صرف عرب رواج کے مطابق بدلہ لیا تھا اور یہ بدلہ لینے وہ امریکہ سے سعودی عرب اس وقت لوٹا جب اس کے بھائی کو شاہ فیصل کے حکم پر مارا گیا تھا۔

دراصل اس کا بھائی ٹی وی کو خلاف شریعت سمجھتا تھا اور دینی اعتبار سے شاہ فیصل کی حکومت کو بدعت کی ترویج کا ذمہ دار ٹہراتا تھا۔ اس لئیے جب حکومت کے خلاف سعودی شہر ریاض میں شریعت بچاؤ ریلی نکلی تو شاہ فیصل کے حکم پر ریلی پر پولیس نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں اس کا بھتیجا بھی مارا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:

کوہاٹ احتجاجی ریلی پر پولیس کی شیلنگ اور فائرنگ

کوہاٹ: اہلسنت والجماعت نے جمعے کو نکالی جانے والی ریلی ملتوی کردی

کوہاٹ فائرنگ واقعہ، ڈویژن بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ

اس کے بھائی نے شاہ فیصل کے قتل سے پہلے اپنی ماں کو بھائی کا بدلہ لینے کے فیصلہ سے بھی آگاہ کر دیا تھا۔ ماں نے اسے شاہ فیصل قتل میں کامیابی کی دعا دی تھی۔ قتل کرنے کے لئیے شاہ فیصل کا بھتیجا چونکہ خود بھی ایک شہزادہ تھا ایک کویتی وفد کے ہمراہ اپنے چچا کے دربار میں حاضر ہوا اور سعودی ٹی وی چینل کے کیمرے کے سامنے اسے سر میں دو گولیاں مار دیں۔

یہ وڈیو آج بھی سعودی حکومت کے پاس پڑی ہے۔ لیکن کوہاٹ اور ریاض کے جلوس کا آپس میں کیا موازنہ۔ دراصل اس وقت ریاض میں بھی شہری حکومت کو غیر شرعی اور مساجد و ارض مقدس کو خطرے میں سمجھ رہے تھے۔

اب آگے بڑھتے ہیں کیونکہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی گو کہ شاہ فیصل کے قتل پر اس کے بھتیجے کا سرعام تلوار سے گردن زنی کی گئی۔ البتہ ایک اور زیر زمین تنظیم سے وابستہ نوجوان جھیمان العتیبی فیصلہ کر چکے تھے اور سمجھتے تھے کہ ایران کی طرح سعودی عرب کے حکمران بھی کفر کے راستے پر چل رہے ہیں۔

اہل تشیعہ اور ایران کے خلاف اس کے قبیلے اور بزرگوں نے جنگیں لڑی تھیں۔ اور انہی کے بزرگوں نے متعدد بار ایران پر حملہ کرکے مزارات تباہ کئیے تھے۔

جب سعودی عرب میں تیل نکلا جدت آئی غیر مسلم گورے آئے تو ان کے پرانے نظریات وعقائد ان کو چین سے نہیں بیٹھنے دے رہے تھے۔ ان کے وقتوں میں تو سعودی مرد باشندے اجنبیوں سے پردہ کرتے تھے۔ تصویر تک حرام تھی اور اب خواتین کے چہرے بازاروں اور گھروں میں ٹی وی کے ذریعہ پہنچے۔ تب اسے لگا کہ قیامت قریب ہے اور امام مہدی کا ظہور ہونے والا ہے۔ جلد ہی اسے خواب میں نظر آیا کہ خود جھیمان کے برادر نسبتی ہی امام مہدی ہیں۔

تب ایران میں امام خمینی نے شاہ ایران کا تختہ الٹا۔ اب تو جھیمان کو ایسے لگا کہ جلد ہی سلفی مکتبہ فکر بھی مٹ جائے گی کیونکہ بقول اس کے سعودی شاہی خاندان تو کفر کا راستہ اختیار کر چکا ہے اس لئیے امام مہدی کا جلد اعلان کیا جائے۔ تب آخری فیصلہ کی گھڑی سر پر پہنچ چکی تھی۔ کیوں نہ خانہ کعبہ پر قبضہ کرکے پوری مسلم امہ کا کنٹرول سنبھالا جائے۔

20 نومبر 1977 صبح پانچ بجے پچاس ہزار مسلمانوں کے غالباً حج کی ادائیگی جاری تھی اور امام کعبہ امام سبیل نماز فجر کی ادائیگی کے لئے جیسے ہی آگے بڑھے اسے روک دیا گیا اور جھیمان العتیبی نے اپنے برادر نسبتی محمد عبداللہ القہتانی کے امام مہدی ہونے کا اعلان کردیا۔ لگ بھگ پانچ سو جنگجو اس کا ساتھ دے رہے تھے۔

شروع شروع میں ہی غلطی سے گولی چل جانے سے القہتانی مر گئے۔ دنیا بھر میں خبر پھیلی کہ ایرانی اہل تشیع نے خانہ کعبہ پر حملہ کر دیا۔ ایران نے فوراً تردید کی تو کہا گیا امریکہ نے حملہ کر دیا پاکستان خبر پہنچی تو جب تک سعودی حملہ آوروں کی وضاحت کرتے تب تک پاکستانیوں نے راولپنڈی میں مشتعل جلوس نکال کر امریکی سفارت خانے کو آگ لگا دی۔

کہانی کی تفصیل موجود ہے لیکن آج کل قارئین کے ساتھ وقت نہیں ہوتا اس لیے انتہائی اختصار کے ساتھ کہانی فرانسیسی کمانڈوز کو خانہ کعبہ جھیمان سے چھڑانے پر اسے زندہ گرفتار کرکے ساٹھ دیگر ساتھیوں کو پھانسی دے کر ختم ہوئی۔

اس کے بعد جھیمان کی تمام تر معلومات کی روشنی میں سعودی عرب سے کئی علماء اور نوجوان نکالے گئے۔ ان میں زیادہ تر پاکستان آئے ان میں ایک بڑی جہادی شخصیت اور القائدہ کے بانی اسامہ بن لادن کے استاد محترم عبداللہ عزام بھی تھے۔ بن لادن کنسٹرکشن کا خانہ کعبہ حملہ اور محاصرہ میں کیا کردار تھا یہ کہانی پھر سہی۔

لیکن سعودی عرب نے ملک کو شریعت کے مطابق کرنے کے لیے کئی اقدامات کئیے۔ پھر بھی آج اتنے برس گزرنے کے باوجود جھیمان العتیبی کے نظریات سعودی عرب کا پیچھا کر رہے ہیں۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ سعودی عرب اور اکثریتی سنی مسلمان بدعتوں کا شکار ہو گئے ہیں اور شرک میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

اس دوسرے جنم کا آغاز عراق سے ہوا جب ابو مصعب الزرقاوی نے القاعدہ پر اہل تشیعہ کا ساتھ دینے کا الزام لگایا اور عرب دنیا میں اہل تشیعہ کے قتل عام کا آغاز کیا۔ عراق کے بعد شام میں داخل ہوا تو اس تتنظیم نے دولت اسلامی عراق و فی شام یعنی داعش کا نام اپنایا۔

ان کا نظریہ وہی ہے اور وہ افعانستان پاکستان ہندوستان کے حوالہ سے کالے جھنڈوں کا ذکر کرتے ہیں، لشکر اور جھاد ہند کا ذکر کرتے ہیں، اس کے بعد امام مہدی کے ظہور اور عرب بادشاہتوں سے اقتدار لینے کا ذکر کرتے ہیں۔ شام اور عراق میں جاری جنگ اب صرف اہل تشیع کے خلاف نہیں بلکہ بے پناہ اہل سنت بھی زندگی سے ہاتھ دو بیٹھے ہیں۔

اسی کوہاٹ سے کچھ ہی دور اس تنظیم نے عراقی مجاہد ڈاکٹر شہاب المہاجر کو ولایت خراسان کا امیر بھیج دیا ہے۔ اس وقت آپ ہی کے پڑوس میں طالبان پر کفر کا ساتھ دینے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ طالبان نے ایران اور امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کر رکھے ہیں۔

قصہ مختصر دنیا کی اسلام مخالف قوتوں نے اس بار اسلام کو اندر سے ہی انتشار کی طرف لے جانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف مسالک میں نفاق پیدا کرکے جس کی تاریخ بھی ہے اور اثرات بھی جیسے کہ میں نے ذکر کیا کہ سب کچھ ماضی میں ہو چکا ہے۔ مطلب اختلافات تو ہیں لیکن بس ان کو بھڑکانا اور بارود پہنچانا باقی ہے جو کہ میرے خیال میں اب وہ بھی مسئلہ نہیں رہا۔

اب سوچیں مسلم ممالک کی ایماء پر ہم نے اسرائیل کو ماننے سے انکار کیا وہی ممالک اب اسرائیل کے ساتھ معاملات ٹھیک کر رہے ہیں۔ اگر مسلم دنیا میں اتفاق ہوتا تو کیا کوئی مسلم ملک اسرائیل کو قبول کرنے کی ضرورت بھی محسوس کرتا میرا خیال ہے قطعی نہیں۔

لیکن اسلامی دنیا جس طرح شیعہ۔ سنی بلاک میں تقسیم ہو گئی ہے اسلام مخالف قوتوں کو ابھی کسی فوج کی ضرورت نہیں رہی نہ وسائل کی کہ اسلامی ممالک کے وسائل اور لشکر ہی ان کے کام کے لئیے کافی ہیں۔

اب پاکستان، جو کچھ پڑوسی ملک افغانستان میں ہو رہا ہے وہ بھی مسلکی جنگ کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس لئیے خدشہ موجود ہے کہ اس کے اثرات ماضی کی طرح پاکستان پر بھی پڑیں گے جس کے اثرات آپ آہستہ آہستہ دیکھ رہے ہیں۔ چونکہ ہمارے پاس پاک فوج جیسا ادارہ موجود ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو شام یا عراق جیسا نہیں بنایا جا سکتا لیکن کیا اس کو بنانے کی کوشش نہیں کی جا رہی ہوگی؟ آپ کیا کہتے ہیں؟

ٹیگز

سید فخر کاکا خیل

سید فخر کاکا خیل بے باک آواز کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر، ریسرچر، پروڈیوسر اور صحافی ہیں جو کہ مختلف قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے سیاسی اور سماجی امور کے حوالے سے ماہر جانے جاتے ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close