صحافی بڑے نہیں ہوتے مالکان بڑے ہوتے ہیں

صحافت پر لکھنے کو بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے اور مجھے بہت خوشی ہوتی ہے جب ہمارے دوستوں میں سے اور ہمارے بڑوں میں کوئی صحافت کے اُن مسائل پر قلم اٹھاتا ہے جن پر کسی نے اب تک جسارت نہیں کی ہے ۔

ہم نے اپنے صحافتی کیئرئیر جو اتنا زیادہ طویل نہیں ہے ۔مگر اس کم عرصے میں ہم نے بہت زیادہ مشاہدہ کیا۔بہت تجربات سے گزرے اور جب صحافت کو الوداع کہنے کا وقت آیا تو کوئی الوداع کرنے والا بھی نہیں تھا نہ ہی کوئی خوش آمدید والا تھا۔ بس آئے وقت گزارا اور چل دئیے ۔کسی کو کوئی فرق نہیں پڑا۔کہ کوئی جھونکا ہوا کا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: میڈیا اور آپ کی کھال

صحافت سے نکلنے کے بعد جب دیکھا کہ ہمارے دوست اس فیلڈ میں پس رہے ہیں تو ایک سیریز شروع کی جس میں سما ٹی وی کے دوست زکا اور ایک موصوف جبران یوسف زئی ہوا کرتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ صحافت پر کوئی نہیں لکھ رہا ۔لکھنا شروع کردو۔ایک ارٹیکل سے ہی میری پریس کلب کی ممبرشپ اور خیبر یونین کی رجسٹریشن منسوخ ہوگئی کہ یہ اب صحافت میں نہیں ہے ۔یونیورسٹی میں پڑھا رہا ہے حالانکہ میں کچھ اخبارات کے ساتھ کام کررہا تھا۔ مگر پیچھے جو تھا وہ ہم سمجھ گئے تھے کہ کیوں زیر عتاب لائے گئے ہیں ۔حالانکہ بہت سے صحافی دوست سرکاری ملازم ہیں۔کاروبار کر رہے ہیں اور کچھ کا تو سروکار ہی صحافت سے نہیں وہ اور کاروبار میں مصروف ہیں مگر ووٹ کے دنوں میں ووٹ کو عزت دو کے ساتھ آجاتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: نسلوں کا پیچھا کرتی خبر!

بات ہورہی تھی کہ سنئیر جب لکھتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے ۔استاد محترم فخر کاکا خیل جس کے فیچر اب بھی میرے پاس کچھ پڑے ہیں اس سے ہم نے فیچر نگاری سیکھی ہے ۔اس ویب سائیٹ پر یہ دوسرا ارٹیکل صحافت کے حوالے سے پڑھا تو مزہ آیا اور سوچا کہ ہماری کتاب تو ویسے بھی اس موضوع پر آنی ہے مگر موضوعات بہت زیادہ ہیں جس پر لکھا جاسکتا ہے. یہاں ہم بھی تھوڑا ایڈ کر لیتے ہیں کہ ادارے بڑے ہوتے ہیں، صحافی کبھی بھی بڑا نہیں ہوتا. کسی پرائیویٹ تعلیمی ادارے کے حوالے سے کوئی کرپشن کی نیوز نہیں چھپتی، کیونکہ وہ اشتہار دیتے ہیں ۔اشتہارات کا انچارج بتادیتا ہے ایڈیٹر کا حکم ہے کہ اچھے طریقے سے ٹریٹ کریں ۔اور چاروناچار چار کالمی نیوز بن جاتی ہے ۔ بلکہ کچھ لوگوں کے لئے تو چار کالمی فرنٹ اور بیک میں چھوڑی جاتی ہے ۔اگر چہ کوئی فنکشن بھی نہ ہوا ہو مگر نیوز اس کے کرنٹ حالات پر منہ چڑھاتی ہے ۔ کسی ادارے کے خلاف نیوز بریک کریں ۔دفتر میں کسی نہ کسی کا کوئی نہ کوئی رشتہ دار نکل آتا ہے کہ یہ خبر نہ چلائیں ۔خبر چل بھی گئی تو دوسرے دن ادارہ چھوٹی سی تردید چلا لیتا ہے ۔جو صحافی استحصال ہی ہوتا ہے.کچھ اخبارات میں تو لسٹ تھمائی جاتی ہے کہ ان کے خلاف خبر نکالیں کیونکہ یہ اشتہار نہیں دیتے ۔اور کچھ کے بارے میں کہا جاتا ہے ان کے خلاف خبر نہ لگے ۔

ہمارے ساتھ بھی کئی دفعہ ایسا ہوا۔ 2010 سیلاب کے آنے کی خبر مارچ میں بریک کی کہ موسمیات کے ذرائع کہتے ہیں کہ اس سال بارش کے نتیجے میں سیلاب بڑی تباہی مچائے گی ۔اور سوات نوشہرہ شانگلہ میں بہت زیادہ تباہی ہوگی ۔ سورس کنفرم نیوز دے رہا تھا ۔بڑی خبر تھی فرنٹ پیج پر چار کالمی لگی وہ بھی چار ضمنیوں کے ساتھ ۔پھر کیا تھا موسمیات والے پہنچ گئے کہ یہ خبر غلط ہے یا سورس بتائیں ۔ہم نے کہا کچھ بھی ہو میرے کریڈٹ لائن سے تردید نہیں جائے گی پھر وقت نے دیکھا کہ کتنی تباہی مچی تھی اسی طرح بلیک واٹر کی نیوز کہ چارسدہ میں جگہ خریدی گئی ہے ۔اخبار کو دی ۔کسی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ میری خبر ہوسکتی ہے ۔بہت مشکل سے پالیسی کے مطابق چلی مگر مجھے بعد میں جو پرائیویٹ نمبروں سے کالیں آئیں وہ الگ کہانی ہے ۔ یہاں مالکان صحافی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے وہ کہتے ہیں کہ یہ نیوز تمھاری ہے تم ہی جانو ۔جب کسی صحافی کو عدالتی نوٹس ملتا ہے تو ادارہ بے خبر ہوجاتا ہے اور بے چارے صحافی کی مت ماری جاتی ہے کیونکہ صحافی بڑا نہیں ہوتا بلکہ ادارے کے مالکان بڑے ہوتے ہیں ۔

ٹیگز

اے وسیم خٹک

اے وسیم خٹک صحافت کے عملی میدان میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ مختلف اداروں کے ساتھ منسلک رہے ہیں اور ان کی تحریریں مختلف آن لائن اور پرنٹ اخبارات و رسالوں میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close