ذرا اپنے تعلیمی نظام کی نبض پر تو انگلیاں رکھ کر دیکھیں

درس اور تدریس کے فرائض انجام دیتے ہوئے اور اس شعبے کی باریکیاں بہت نزدیک سے دیکھنے اور پرکھنے کا تجربہ۔

بہت عمدہ، قابل اور دوسری طرف بے حد نالائق اور غیر سنجیدہ اساتذہ سے بھی واسطہ پڑا ۔

شاگردوں کے مسائل سے بھی آگاہی ہوئی اور ان میں سے کام چوروں سے بھی واسطہ پڑا اور نہایت ذہین لوگوں کو بھی دیکھا جو دن رات ان تھک محنت کرتے ہیں اور کچھ کر دکھاتے ہیں ۔

انکے والدین کو بھی اپنے بچوں کیلئے فکرمند اور ضرورتیں پورا کرتے دیکھا ۔ اور ایسے والدین اور اساتذہ سے بھی بخوبی واقف ہوا جنہیں اپنے بچوں اور شاگردوں کی پرواہ ہی نہیں ۔

ہمارے تعلیمی نظام پر کافی لوگوں نے تنقید بھی کی اور حکام بالا تک اپنے احتجاج بھی ریکارڈ کراتے دیکھا۔

بے انصافیوں اور بے قاعدگیوں کو بھی جانچا۔ گورنمنٹ اور پرائیویٹ دونوں نظاموں میں فرق بھی واضح ہوا۔ تعلیمی درسگاہوں میں لوگوں کو بد تمیز بنتے اور منشیات کا استعمال کرتے اپنی زندگیاں برباد کرتے ہوئے بھی دیکھا ۔

ہمیں ایک ایسے نظام سے واسطہ پڑا جو لارڈ میکالے کا دیا ہوا انگریزی لبلرزم کو شاید بڑھاوا دینے میں معاون ثابت ہوا اور ایک ایسا اسلامی اور دینی نظام بھی دیکھا جہاں جدید دنیاوی طرز تعلیم کا فقدان ایک بڑا مسئلہ رہا ہے اور یوں دونوں نظام ہائے درس و تدریس میں بلکل 180 ڈگری کا فرق نظر آیا ۔

خواہ وہ دو ایک جیسے کالج یا یونیورسٹیاں کیوں نہ ہوں۔ جنڈر ڈسکریمنینشن، رشوت ،نقل اور سفارش کے معاملات سے آپ سب بخوبی واقف ہیں ۔

ایک ایسا سسٹم جہاں ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ ہے، رٹا لگانے کا رواج اور اساتذہ اپنے نوٹس یاد کروانے کا درس نہایت عمدہ انداز سے دیتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

A گریڈ کے پجاری جو کہ نقل اور سفارش سے کیوں نہ ہو، دوسروں کا حق مارتے ہوئے ٹھاٹھیں مارتا ہوا ہجوم اور سونامی تباہی مچاتے ہوئے اگلی پوری نسل مادہ پرستی کے پیروکار بن گئی ۔

ایسےلکھتے لکھتے تھک جاونگا لیکن فریاد کم نہ ہوگی اور قلم کی سیاہی ناپید پڑ جائیگی ۔

نوکری ملنا مشکل اور اگر ملے تو قومی خزانے کو لوٹنے کا بازار گرم ہو جانا ہے۔ رشوت، سود اور حرام کی کمائی کو غنیمت سمجھنے والے لوگوں کا کیا کر سکتے ہیں ؟ ایسی جگہ ڈھونڈیں اور بتائیں جہاں نظام ٹھیک ہو۔

معاشرہ اخلاقی طور پر تباہ ہوگیا لیکن اسکا ذمہ دار کون؟ اس مار دھاڑ کا، اس جاہیلیت کا، اس مادہ پرستی اور انسان پرستی کا، اس تعلیمی نظام کا بیڑا غرق کرنے کا جواب کس سے مانگیں؟ اساتذہ کرام کو رول ماڈل بننا ہے، تعلیمی نظام پر ریسرچ کے بعد اسکو تبدیل کرنا نہایت ضروری ہے ۔ اپنے آپکو تبدیل کرنا یے۔ اللہ کو حاضر و ناظر جان کر اپنے آپکو وہ مخلوق بنانا ہے جو اخلاقی اور رحم دل ہو ، جو انصاف کا داعی ہو ، جو ظلم نہ کرے اور جو انسان کہنے کے لائق ہو۔

یہ سب مشکل ہے لیکن نا ممکن بلکل بھی نہیں۔
ایک طرف ایسی تعلیم دینے کی کوشش کی گئی جس سے پاکستان کثیر القومیتی ملک کی بجائے ایک قومی ملک بن جائے مگر ساتھ ہی اس بات کی کوشش کی گئی کہ تعلیمی عدم مساوات بھی اپنی جگہ برقرار رہے یعنی تعلیمی پالیسیاں نہیں بنائی گئیں جس سے معاشرے میں معاشی اور سماجی تفاوت برقرار رہے اور کم نہ ہو۔ بلکہ حکمرانوں اور امراء کے بچوں کیلئے مغربی طرز کے اسکول اور دوسری طرف عوام کو نظریاتی افیون کھلا کر انھیں سلانے کی کوشش کر دی گئی تاکہ وہ ترقی کی دوڑ سے باہر ہوجائیں۔ یہ سب تلخ حقیقت ہے پر کیا ہو سکتا ہے ایسا ملک جہاں وزیر تعلیم ایک کو خود الف بے کا پتہ نہیں ہوتا وہ خاک بہتر پالیسیاں تجویز کر سکے اور اسمبلیوں میں ایسے منتخب نمائندے بیٹھے ہوں جو ایک دوسرے پر فضول تنقید اور آپس کی کھینچا تانیوں سے فارغ ہونگے تو کچھ مثبت کام کر سکیں گے۔افسوس ہی کر سکتے ہیں ۔
حل کیا ہے؟ یکساں نظام تعلیم ہو، اساتذہ میرٹ پر ہوں اور ان کی جدید ٹریننگ ہو، والدین کی حلال کمائی اور اپنے بچوں پر چیک ہو، ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال ہو، اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد اور انصاف کا بول بالا ہو، تعلیم کی بنیادی ضرورت کا حصول سب کیلئے فری اور آسان ہو، میرٹ ہو،سزا و جزا ہو اور شعور اجاگر کیا جائے کہ تعلیم سب انسانوں کا بنیادی حق ہے اسکو حاصل کیا جائے تو ممکن یے کہ ہم ایک عظیم قوم کی مانند ابھرے اور ترقی کریں ورنہ کوئی امید نہیں کہ چراغ گل ہو۔

انجنیئر محمد فیصل

پیشے کے لحاظ سے انجئنیراور ایک یونیورسٹی میں ٹیچر ہیں سوشل موضوعات پر کبھی کبھار قلم اٹھاتے ہیں ۔مگر جب لکھتے ہیں تو حد کرتے ہیں

متعلقہ پوسٹس

ایک کمنٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close