بھائی کافر بہن غدار

سیاسی مخالفت میں الزامات کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی یہ عمل پاکستان تک محدود ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان میں ہم سے بڑھ کر یہ سلسلہ جاری ہے۔ لیکن ہماری کہانی میں ٹویسٹ ہے۔ میں فلم انڈسٹری کا روایتی جملہ بالکل نہیں دہرا رہا کہ یہ فلم ہٹ کر ہے اور سچے واقعات پر مبنی ہے۔ بلکہ حقیقتاً ہماری کہانی، پاکستانی سیاست کی کہانی واقعی ہٹ کر ہے۔ اس کہانی کا آغاز ہی پاکستان کے خیال کے ساتھ ہوا۔ ہوا کچھ یوں کہ محمد علی جناح کانگریس سے مایوس ہوکر مسلم لیگ کی کمان سنبھال چکے تھے۔ چونکہ کانگریس سمیت مسلمانوں کے دیگر سیاسی پلیٹ فارمز خصوصاً مجلس الاحرار کو اندازہ تھا کہ پوری مسلم لیگ میں واحد محمد علی جناح ہی واحد شخصیت تھے جو برصغیر کے بساط پر کھیلے جانے والے کھیل سے واقف تھے اور حکمران حلقوں تک میں بھی ان کو سنا جا رہا تھا اس لئیے تنقید کا مرکز و محور ان کو بنانے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا۔ کانگریس میں بھی ایسے مسلمان شامل تھے جو محمد علی جناح کو ایک مستقل سیاسی خطرے کی شکل میں دیکھ رہے تھے۔ مسئلہ دراصل تھا ہی یہی کہ محمد علی جناح ایک مضبوط اقلیت یعنی مسلمانوں کے ووٹ بینک کو مسلسل کھینچ رہے تھے۔ انگریز سرکار بھی آہستہ آہستہ ہندو مسلم تقسیم کی سیاست کو کامیاب ہوتے دیکھ رہی تھی اور کسی حد تک اس سلسلہ میں جھکاؤ محمد علی جناح کی طرف ہونے لگا تھا۔ گو کہ نہرو کی قربت اور رسائی، گاندھی کا دباؤ انگریز پر محمد علی جناح سے کہیں زیادہ تھا لیکن محمد علی جناح ان کی ہر نو بال کو بھر پور طریقہ سے کھیلنے لگے تھے۔ ایسے میں مسلم برادری کے دیگر رہنماؤں کی بے بسی اور جھنجھلاہٹ نے ان کے پاس صرف الزام تراشی کا ہی راستہ چھوڑ دیا تھا۔ الزام بھی وہ کہ جو محمد علی جناح کو مسلمان اقلیت کے کارڈ سے محروم کر دے اور یہ تب ممکن تھا جب یہ کہا جاتا کہ محمد علی جناح تو مسلمان ہی نہیں۔ کہانی میں اہم موڑ اس وقت آیا جب 7 ستمبر 1944ء کو جناح اور نہرو میں ملاقات طے پائی۔ چونکہ اس تاریخ کو 21 رمضان المبارک کی اسلامی تاریخ تھی اس لئیے یوم شھادت علی کے احترام میں محمد علی جناح نے ملاقات کی تاریخ 9 ستمبر کی تجویز دی جو منظور کی گئی اور اسی تاریخ کو ملاقات ہوئی۔ اس پر مجلس الاحرار کے پہلے سے طاق میں بیٹھے رہنما مولانا ظفر الملک نے محمد علی جناح کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا کہ اسلام کی روح اس قسم کے یہودی تصورات کے بالکل خلاف ہے اور جناح ان تصورات کو مسلمانوں پر نہیں تھوپ سکتے۔ اس پر محمد علی جناح نے کہا کہ حضرت علی تو اسلام کے تمام فرقوں کے لئیے باعث احترام ہیں اور مولانا ظفرالملک کی ان باتوں پر انہیں تعجب ہے۔
بات کچھ اور تھی اور جوں جوں مخالفین کو محمد علی جناح کے آگے بڑھنے اور اپنی سیاسی پوزیشن کے عدم استحکام کا ڈر بڑھنے لگا توں توں محمد علی جناح کی مخالفت میں تیزی آنے لگی اور کھلے عام جلسوں میں ان پر کفر کے الزامات لگنے لگے۔ مولانا حسین احمد مدنی نے”سول میرج اور لیگ” کے نام سے پمفلٹ لکھا جس میں صاف کہا کہ چونکہ محمد علی جناح کی زوجہ رتی بائی ایک غیر مسلم تھیں اس لئیے وہ ایک کافرہ سے نکاح کے مرتکب ہوئے ہیں۔ جس پر مسلم لیگ کی جانب سے ان کے نکاح اور ان کی تدفین کے حوالہ سے ثبوت پیش کئیے گئے۔ حالانکہ ان کو فوت ہوئے بھی زمانے بیت چکے تھے۔ یہی وہ وقت تھا جب ایک معروف احراری وکیل مظہر علی اظہر ایڈوکیٹ نے محمد علی جناح کو ایک مجلس میں شعر کہتے ہوئے "کافر اعظم” کہا۔
"ایک کافرہ کے واسطہ اسلام کو چھوڑا
یہ قائداعظم ہے کہ ہے کافر اعظم”
حالانکہ اسی وقت احرار کے حلقوں میں اس پر تاسف کا اظہار کیا گیا لیکن مظہر علی اظہر اس طرح کی تنقید میں حدیں پار کرنے کی شہرت رکھتے تھے۔
ہونی کو کون ٹال سکتا ہے قائد اعظم نے جو چاہا کر کے دکھایا پاکستان ایک علیحدہ ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشہ پر وجود میں آیا۔ ہندوستان کی مسلمان اقلیت اب اپنے الگ ملک میں اکثریت کی حیثیت سے موجود تھی۔ لیکن جس طرح کہانیوں میں ہوتا ہے کہ پھر ہمیشہ کے لئیے سب ہنسی خوشی ایک ساتھ رہنے لگے کا انجام اس کہانی کا نہیں ہوا کیونکہ کہانی ابھی باقی تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو گزرے ابھی ایک سال ہی ہوا تھا کہ ان کی ہمشیرہ مادر ملت فاطمہ جناح کو اندازہ ہوا کہ وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں۔ انہوں نے ریڈیو پر خطاب کے دوران وزیر اعظم لیاقت علی خان پر تنقید کی تو اس کی تقریر ہی سنسر کر دی گئی۔ وہ کافی سیخ پا ہوئیں لیکن اسے کیا پتا تھا کہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ قائد اعظم کی بہن اور قریب ترین سیاسی ساتھ کے باعث ایک ایک کرکے سارے کردار فاطمہ جناح پر اشکار ہو رہے تھے۔ یہاں تک کہ اپنی زندگی میں ہی انہوں نے ایک فوجی آمر کو ابھرتے دیکھا۔ ایوب خان ملک پر قبضہ کر چکے تھے۔ مادر ملت اور قائد اعظم کی ہمشیرہ ہونے کے باعث ملک کی تمام حقیقی جمہوری قوتیں یہاں تک وہ قوتیں بھی جنہوں نے قائد اعظم کی سیاسی مخالفت کی تھی فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑی ہوگئیں۔ ان میں نیپ، جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی متحدہ اپوزیشن کا کردار ادا کرکے فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑی تھیں۔ وقت کا ستم بھی کیا چیز ہے ایوب خان نے ملک کی طرح مسلم لیگ کو بھی فنکشنل مسلم لیگ کی شکل میں ہائی جیک کر دیا تھا۔ ایک قابل ذکر بات یہ کہ فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لالٹین تھا جو آج عوامی نیشنل پارٹی کا انتخابی نشان ہے اور نیپ کی وجہ سے باچا خان، ولی خان سے اسی تعلق کے باعث مادر ملت پر وہ الزام لگا جس پر آج بھی اس ملک کے کرتاوں دھرتاؤں کو شرمسار ہونا چاہئے۔ چونکہ مظبوط اپوزیشن اور فاطمہ جناح کے پس منظر کو دیکھ کرکوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ فاطمہ جناح کو ایک فری اینڈ فئیر الیکشن سے شکست دیا جا سکتا ہے اس لئیے ایوب خان نے پہلے مذہب کا سہارا لیا۔ اپنے ساتھی علماء سے فتویٰ لیا کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی جائز ہی نہیں ہے۔ لیکن جس طرح ان کے بھائی قائد اعظم پر اس حربہ نے اثر نہیں کیا تھا ایوب خان نے کچھ نیا کرنے کی ٹھانی۔ جب خدائی خدمت گار باچا خان مادر ملت کے ساتھ کھڑا ہے تو اس پر غداری کا الزام شاید قوم بھی قبول کر لے۔ بس پھر کیا تھا سرکاری ڈولچی "غدار، غدار” کی تھاپ پر رقص کرنے لگے۔ اشتھارات چھپے کہ فاطمہ جناح خان عبدالغفار خان کے ساتھ ملکر پاکستان توڑ کر پختونستان بنانے کی افغان سازش کر رہی ہے لہٰذا اس غدار کو مسترد کیا جائے۔
قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن مادر ملت فاطمہ جناح کو یہ دن بھی دیکھنے پڑے۔ جس ملک کے وہ ماں باپ ٹہرے اس ملک کے قیام کے لئیے اس کے بھائی پر کفر اور اب اس ملک میں جس کی وہ ماں کہلائی جاتی رہیں ان پر غدار کے الزامات بھی لگے۔
ایوب خان نے الیکشن پوری طاقت اور دھاندلی کے ساتھ جیتنا ہی تھا اور وہ جیتے۔ لیکن مادر ملت فاطمہ جناح کے پاس غداری کے اس الزام کے بعد اب کھونے کو کچھ نہیں رہا تھا اس لئیے اس نے دو سال بعد ہی یعنی جولائی 1967 کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے دنیا سے رخصت لے کر بھائی کے ہمراہ مدفن ہونا پسند کیا۔
سیاست کی بے رحمی، اقتدار کے حصول کی دوڑ، سیاست میں اخلاقی زوال، کافر کافر اور غدار غدار کی چیخ پکار میں دبی ایک قوم کو تشکیل دینے والے بھائی بہن کے جدوجہد کی ایک کہانی یہ بھی ہے۔

ٹیگز

سید فخر کاکا خیل

سید فخر کاکا خیل بے باک آواز کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر، ریسرچر، پروڈیوسر اور صحافی ہیں جو کہ مختلف قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے سیاسی اور سماجی امور کے حوالے سے ماہر جانے جاتے ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close