میڈیا اور آپ کی کھال!

اس جنگ میں دو ہی طبقے ہیں ایک استحصالی اور دوسرا مظلوم جو استحصال کو سہتا ہے۔ یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ وہ جانور بننا ہے کہ جس کی کھال سے بیش قیمت پوشاک تیار ہوتی ہے یا پھر وہ جو کھال نکالتے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کھال کے لئیے حاضر جانوروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور دولت چند کھال فروشوں کے ہاتھوں میں ارتکاز کا شکار ہو رہی ہے۔

کھال نکالنے والوں کے انداز اور آلات میں جدت آگئی ہے کہ یہ فطری عمل ہے۔ صنعتی دور میں اسی کا نام مقابلہ ہے۔ اب ان ہتھیاروں میں صحافت بھی آ گئی ہے۔ آپ نے یہ تو سنا ہو گا کہ اس ملک کی صحافت مدر پدد آزاد ہے اور اس میں کیا سیاستدان اور کیا عدلیہ، کیا انتظامیہ تو کیا صحافت یہاں تک کہ ملک کے طاقتور ترین ادارے پر کھل کر تنقید بھی ہوتی ہے اور گالیاں بھی پڑتی ہیں۔

ایسا ہے نا؟ لیکن ایک لمحہ کو ذرا ٹھر کر سوچئیے سیلولر کمپنیز یعنی موبائیل کمپنیز اور اس کی سروس مہیا کرنے والے زونگ، موبی لنک، یو فون، ٹیلی نار کے خلاف آپ نے کوئی خبر پڑھی یا ٹی وی پر رپورٹ دیکھی۔ بچپن میں سنتے تھے کہ ایک وقت آئے گا کہ یہ سادہ پانی بھی خریدنا پڑے گا۔

ہم ہنس کر کہتے کیا یہ دریا سوکھ جائیں گے؟ یہ تو پھر قیامت والی بات ہوئی۔ کیا پتا تھا کہ جیتے جی وہ دن دیکھنے نصیب ہوں گے اور کوئی اف بھی نہیں کرے گا۔ کبھی آپ نے سادہ پانی بیچ کر اربوں کمانے والوں پر کبھی ٹی وی پر رپورٹ ٹاک شو دیکھا ہے کہ جس میں ایکوافینا یا نسلے پر تنقید کی گئی ہو۔ مجھے تو صحافت میں عرصہ ہوا ہے میں نے نہیں دیکھا اس لئیے پوچھتا ہوں کہ شاید آپ نے دیکھا ہو پڑھا ہو۔ وجہ کیا ہے؟ پیسہ جناب پیسہ! یہ اتنے اشتھارات دیتے ہیں کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ایک بار ایک اینکر نے کوشش کی تھی۔ لیکن وہ کوشش بھی اس لئیے تھی کہ ان کو اشتھار نہیں ملا تھا۔ پھر کاہے کی آزادی صحافت؟ کاہے کا عوامی مفاد؟ کیونکہ میری نظر میں تو عوامی مفاد ہی قومی مفاد ہے۔

جس بندے کو یہ نہیں پتا کہ اسرائیل کا حدود اربعہ کیا ہے وہ پاک اسرائیل خارجہ پالیسی پر بات کر رہاہے۔ ایک کنواں ہے کہ جس کے بیچ میں آپ کھڑے ہیں اور آپ کے گرد میڈیا کی دیواریں ہیں بشمول شوشل میڈیا کے جو آپ کو بتاتے ہیں کہ اصل ڈیٹرجنٹ بار کونسا ہے۔ دراصل بات اصل کی نہیں بلکہ مقصد ڈیٹرجنٹ بار کی فروخت ہے اس کے لئیے آپ کی جیب پر ان کی نظر ہے اور آپ کی نظر اس کنویں میں موجود سکرینوں پر۔ آپ ذرا غور سے دیکھیں تو آپ کو ایک ہی سکرین پر مختلف ڈیٹرجنٹ بار بیچے جاتے ہیں فرق صرف اتنا رکھتے ہیں کہ اشتھار میں کسی بھی ڈیٹرجنٹ بار کو بیچتے یعنی دکھاتے وقت باقیوں کو بلر یعنی مبہم کر دیا جاتا ہے۔ یہ تو کمرشل ہیں آپ غور کریں کرنٹ افئیر کے پروگراموں میں اب فلموں کی طرح پہلے باقاعدہ سلائیڈ آتا ہے کہ اس پروگرام کے ساتھ اس چینل کا کوئی واسطہ نہیں اور یہ ان کی اپنی رائے ہے جس سے سے چینل اتفاق نہیں کرتا۔

جس طرح فلموں میں آتا ہے کہ فلم کے تمام کردار فرضی ہیں اور کوئی بھی مطابقت اتفاقیہ ہو گی۔ اگر یہ چیزیں کبھی نوٹ نہیں کیں تو بے شک اب کر لیں۔ اصل میں آپ یہ چاہتے ہیں۔ آپ صارفین ہیں، مارکیٹ آپ سے چلتی ہے، آپ وہ جانور بن چکے ہیں جس کی کھال نکالی جا رہی ہے۔ لیکن میڈیا وہ طاقت ہے کہ جس میں یہ لوگ ایک قدم اور اگے گئے ہیں وہ یہ کہ آپ کی کھال آپ کو ہی بیچی جا رہی ہے۔ یہ نہیں کہ سارے دھندے گندے ہوتے ہیں لیکن دھندے میں لوگ گندے ہوتے ہیں وہی صحافت کے ساتھ ہوا۔

جب یہ کہا گیا کہ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔ حالانکہ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ جو نہیں دکھتا وہ انمول ہوتا ہے۔ لیکن آپ کو شوق ہے اپنی کھال خریدنے کا تو وہ آپ کو وہی بیچ رہے ہیں۔ کبھی مہنگی دوائیوں، پرائیویٹ ہسپتالوں، مہنگی بجلی، موبائیل سروسز، بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم، سول کورٹ سیشن کورٹ پر پرائم ٹائم کے وقت مسلسل پروگرام دیکھے کہ جس کا کوئی نتیجہ نکلتا ہو ہاں البتہ میرے پاس تم ہو پر بحث خوب ہوئی ہو گی اور آپ نے دیکھی ہو گی کیونکہ ان کو پتا ہے کہ آپ کو کھال دیکھنی ہے چاہے وہ آپ کی ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کو وہ بتایا جاتا ہے جو آپ سننا، دیکھنا اور پڑھنا چاہتے ہوں۔ اس سے آتی ہے ریٹنگ، اس سے بڑھتی ہے سر کولیشن اور انٹرنیٹ کے کلکس۔ ان کو تو کھال چاہیئے اور کھال خریدنے والے۔

چلو اس پر تو آپ کا اختیار نہیں جب آپ کی کھال کر کھینچ کر نکالی جاتی ہے لیکن آپ کو کیا ضد پڑی ہے کہ اپنے ہی کھال کو آپ خریدنے چلے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں وہ دکھاتے ہیں بیچ میں کمرشل کی آمدن علیحدہ اور انٹرنیٹ کلک سے آپ علیحدہ اپنی ہی کھال کو خریدتے ہو۔ آپ کو مزہ آتا ہوگا لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا۔ آپ کو کوئی نئی بات نہیں سننی، کوئی نئی بات نہیں دیکھنی نا ہی پڑھنی ہے۔ ہر بار تبدیلی کے نام پر چہرے بدل کر آتے ہیں نظام کی گویا عادت پڑ گئی ہے آپ کو، اور کمال کی بات یہ کہ اسی نظام کو گالیاں پڑتے دیکھ کر آپ خوش ہو کر وہی کچھ دیکھ رہے ہو جو ستر سالوں سے دیکھتے رہے ہو۔ وہ بھی سوشل میڈیا پر آپ کے ٹرینڈ دیکھ کر وہی چیز پھر کھانے کو رکھ دیتے ہیں اور آپ پھر وہی چٹخارے دار کھانا کھا کر میدے کی تکلیف کی شکایت کرتے ہیں۔ دینے والوں کی تو سمجھ آتی ہے وہ تو استحصالی طبقہ ہے وہ وہی کرے گا جو اس کا کام ہے مجھے سمجھ یہ نہیں آتی کہ آپ ان کو یہ سب کرنے پر مجبور کیوں کر رہے ہیں۔

ٹیگز

سید فخر کاکا خیل

سید فخر کاکا خیل بے باک آواز کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر، ریسرچر، پروڈیوسر اور صحافی ہیں جو کہ مختلف قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے سیاسی اور سماجی امور کے حوالے سے ماہر جانے جاتے ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close