خوشبو بھی چبھنے لگی مجھے

کچھ واقعات انسان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں جو نہ چاہتے ہوئے بھی دل پر نقش ہوجاتے ہیں اور دل کے کھواڑ کھول دیتے ہیں کہ دنیا میں کیسے کیسے لوگ اور کس طرح رزق کے حصول کے لئے سرگرداں ہیں ۔

ہمیں اللہ تعالی آسانی کے ساتھ خوراک مہیا کردیتا ہے جس کا ہم کبھی کبھار شکر تک ادا کرنا بھول جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو بہت مشکل سے کھانے کو میسر ہوتا ہے ۔اور پھر ایسے خاندان بھی ہیں جہاں کمانے والے بڑے نہیں چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے ہیں جن کی عمریں سکول جانے کی اور کھیلنے کی ہوتی ہیں مگر وہ اپنے گھر والوں کی کفالت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔میں کوئی لکھاری نہیں ہوں مگر کچھ واقعات ایسے ہوجاتے ہیں کہ بندہ خود بخود قلم اٹھانے پر مجبور ہوجاتا ہے ایسا واقعہ گزشتہ رات میرے ساتھ پیش آیا جس نے مجھے پوری رات گھر میں بے چین کئے رکھا۔

میں گزشتہ رات دس بجے اپنے گھر سے اپنے 3 سالہ بیٹے ذلان کیساتھ باھر گیا۔ کچھ ضرورت کی چیزیں لینی تھی اور سوچا بیٹے کا دل بھی بہل جائے گا چلو زرا دور سے گھوم کر، ہوکر آجائیں ۔ ہم موٹرسائیکل پر سوار تھے ۔ میں ذلان کے ساتھ خوشگوار موڈ میں بارش کے بعد ٹھنڈی ہوا سے لطف اٹھا رہا تھا کہ راستے میں اندھیرے میں میری موٹرسائیکل کی روشنی سڑک کے کنارے ایک معصوم بچے پر پڑی جو کہ مجھ سے آگے جانے کی لفٹ مانگ رہا تھا ۔ پہلے میں سہم سا گیا کہ اس اندھیرے میں یہ بچہ ہاتھ میں کچھ تسبیح اور ماسک لیے کھڑا کیا کر رہا ہے۔ پر میں رک گیا اور اسکو ساتھ بٹھا لیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ بیٹا ادھر کیا کر رہے تھے، کہنے لگا یہ ماسک اور تسبیح بیچ رہا ہوں بس واپس گھر جا رہا ہوں ۔یہ تسبیح کوئی نیک آدمی ہی خریدے گا اور وہ اس پر ذکر میں مشغول ہوکر شاید دنیا کو یہ بھی باور کرائے کہ اس سے اچھا اور نیک انسان اس جہان میں نہیں ۔ مجھے ابھی ایک شعر یاد آیا کہ محتسب تسبیح کے دانوں پر یہ گنتا رہا
کن نے پی, کن نے نہ پی، کن کن کے آگے جام تھا
میں نے بچے سے پوچھا کہاں رہتے ہو، کہنے لگا ڈیفینس کیساتھ کچی بستی میں ۔ مزید پوچھا کہ اچھا کتنے کما لیتے ہو، کہنے لگا آج 260 روپے کئے ہیں، میرا دل بہت اداس ہوا جب پتہ چلا کہ اس کے والد کڈنی پیشنٹ ہے اور اسکا ایک اور بھائی جو اس سے بڑا ہے وہ بھی یہی کام کرتا ہے، 7 سالہ یہ بچہ ہاتھ میں کچھ تسبیح اور ماسک لیے کھڑا رات دس بجے اداس آنکھیں لئے ہم سے بیشمار سوالات کے جوابات مانگ رہا تھا، لیکن یہ دنیا ہے ہی ایسی جسکی دو شکلیں ہیں۔ ڈیفینس میں ایک طرف یہ بچہ جو سو حسرت دل میں دبائیں بھوکا ، خراب حالت میں اپنے بیمار باپ کو 260 روپے پورے دن کی کمائی ہاتھ میں تھمائگا اور ڈیفینس کی پکی آبادی میں امیروں کی اولاد جو کہ میکڈونلڈذ کا برگر اور KFC کی نگٹس کھائے بغیر گزارا نہیں کرتے۔ جو سارا دن کھیل کود میں مگن اور یہ معصوم ماسک لیے کھڑا بچہ، کیا کھیلنا کیا کودنا ۔ زمین اور آسمان کا فرق۔ جناب یہ ہے وہ اسلامی ریاست جہاں افلاس نہیں، جہاں انصاف ہے، جہاں غریب بھوکا نہیں سوتا، جہاں عدالت اور قانون کے رکھوالے اپنا کام صحیح کرتے ہیں، جہاں سب بنیادی سہولیات سب شہریوں کو میسر ہیں، جہاں سود نہیں، جھوٹ نہیں، بے ایمانی نہیں، ملاوٹ نہیں، مادہ پرستی اور اقرباء پروری نہیں، جہاں حکمران امانت دار اور امام حق گو ہیں۔ جہاں سب اچھا ہے، واہ جی واہ۔
ہم سب کو جواب دینا ہے، ڈرنا ہے اس دن نے جب جواب دینا ہوگا۔ دل اداس ہے اس لئے بس لکھنا پڑا، خدارا سوچیں سمجھیں ایسے بچوں کو۔ اپنے بچوں کو بھی حرام کی کمائی نہ کھلائیں اور جب بھی ایسے کسی بچے کو دیکھیں اُن سے کچھ نہ کچھ خریدیں وہ مجبوری کے تحت یہ کام کرتے ہیں ورنہ بچے سارے شرارتی ہوتے ہیں اور اس عمر میں مستیاں کرتے ہیں ۔مگر کچھ بچے عمر سے پہلے جوان ہوجاتے ہیں ۔جن کے ناتواں کندھوں پر زندگی کا بوجھ آجاتا ہے ۔حکومت کو ایسے بچوں کا ڈیٹا اکھٹا کرکے ان کے خاندانوں کی کفالت اور ان بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری اٹھانی چاہیئے ۔۔۔

سچ پوچھیئے تو، خوشبو بھی چبھنے لگی مجھے۔۔۔
دیکھا جو میں نے پھول کو کچھ پھول بیچتے۔۔۔

ٹیگز

انجنیئر محمد فیصل

پیشے کے لحاظ سے انجئنیراور ایک یونیورسٹی میں ٹیچر ہیں سوشل موضوعات پر کبھی کبھار قلم اٹھاتے ہیں ۔مگر جب لکھتے ہیں تو حد کرتے ہیں

متعلقہ پوسٹس

4 کمنٹس

  1. فیصل صاحب کو جتنا میں جانتا ہوں. نہایت نفیس مزاج کا ادمی ہیں. میں یونیورسٹی میں ان کے ڈیپارٹمنٹ کا طالب علم بھی رہ چکا ہوں. اور بعد میں اسی ڈیپارٹمنٹ میں لیکچرارکے فرائض بھی ادا کر چکا ہوں. دونوں موقعوں پر سر فیصل صاحب کو انتہائی حساس انسان پایا ہے. معاشرے میں اس طرح کے واقعات سے خوب دکھتے ہیں. ایک اچھے استاد کے ساتھ ساتھ ایک موٹیویشنل آدمی ہے.

  2. ماشاءاللہ بہت خوب۔
    اگر ہمارے معاشرے میں ایسے سوچ والے تعلیم یافتہ لوگ پیدا ہو جاے۔ تو بہت زیادہ بدلاؤ آسکتا ہے معاشرے اور تربیتوں میں۔
    شکریہ انجینیر محمد فیصل خان صاحب۔
    آپکا شاگرد حمید آحمد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close