عوامی احتجاج کی معلوم علامت کا نامعلوم ٹینک مین کون؟

جس طرح آج پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں اقتصادی بدحالی، مہنگائی اور افراط زر کے نعرے لے کر میدان میں اتری ہیں اپریل 1989ء میں لگ بھگ یہی نعرے چین میں بھی لگ رہے تھے۔ کمیونزم میں ویسے بھی آزادی اظہار پر پابندیاں سخت ہوتی ہیں لیکن چونکہ چین میں آبادی کی نوجوان اکثریت پر مبنی طلباء و طالبات خاصے فعال تھے اس لئیے حکومت مخالف مظاہروں کا آغاز ہوا۔

کرپشن، اقربا پروری، اقتصادی بدحالی، بے روزگاری اور میڈیا پر پابندیوں کا خاتمہ ان کے بڑے مطالبات میں شامل تھا۔

جلد ہی بیجنگ کی سڑکوں پر ہزاروں مظاہرین نظر آنے لگے۔ فوج بلائی گئی لیکن چونکہ مظاہرین پرامن تھے اس لئیے فوج اور مظاہرین آپس میں گھل مل گئے۔

بچے فوجیوں سے پوچھتے "انکل آپ کیسے ہیں؟ آپ ہمیں ماریں گے تو نہیں؟” اس پر ٹرکوں میں بیٹھے فوجی جوان مسکرا کر جواب دیتے، "نہیں بیٹا! ہم تو عوام کی فوج ہیں اور ہم اپنے عوام کو نہیں ماریں گے۔”

لوگ فوجیوں کو پانی پلانے لگے کھانے کی دعوت دینے لگے۔لیکن درحقیقت چین کا دارالحکومت ہزاروں فوجی ٹرکوں سے بھر گیا تھا۔

بزرگ خواتین ٹرکوں پر سوار فوجیوں کو یہ کہتی پائی جانے لگیں کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہو جائیں ان کا یہ کام نہیں کہ اپنے شہریوں پر بندوقیں تانے۔ کئی دن گزرے تو سرکار نے بھی سوچنا شروع کیا کہ کب تک یہ عوام اور فوج اس طرح آمنے سامنے رہیں گے۔

موسم اور حالات کی گرمی عروج پر تھی۔ بالآخر فیصلہ ہوا کہ فوج قریبی کینٹونمنٹ میں واپس چلی جائے۔

فوج واپس ہوئی تو لاکھوں طلباء و طالبات، سرکاری ملازمین، تاجر، کاشتکار مطلب ہر پیشے سے تعلق رکھنے والے شہری بیجنگ کے مرکز میں گریٹ ہال آف دی پیپل کے سامنے واقع تیاننمن چوک میں جمع ہونے لگے۔ درحقیقت چین کی اقتصادی حالت خود اندرونی پالیسیوں اور پابندیوں کے باعث دم توڑنے لگی تھی۔

بھوک و افلاس عروج پر تھی اوپر سے مستقل زنجیروں میں جھکڑا میڈیا گویا عوام کی چیخ تک دبا دی گئی تھی اور عوام کا دم گھٹنے لگا تھا۔

فوج کی واپسی پر مزید عوام نکلے تو سرکار نے اس کو اپنی شکست سمجھا اور پھر ایک خونریز فیصلہ کیا گیا۔ دس بارہ روز بعد فوج پوری طاقت کے ساتھ دوبارہ بیجنگ شہر میں داخل ہوئی۔ اس بار بھاری اسلحہ سے لیس اور ٹینکوں کا کارواں بھی ساتھ تھا۔

3جون کی شام بیجنگ میں بدلی بدلی سی تھی۔ اس بار فوج کے ارادے بھی بدلے بدلے تھے اور عوام کا ردعمل بھی کافی جارحانہ تھا۔ شام پانچ بجے بیجنگ کے وسط میں تیاننمن چوک میں جھڑپوں کا آغاز ہوا تو رات گئے جھڑپوں میں شدت آ گئی۔

چینی حکومت کا فیصلہ یہ سامنے آیا کہ چار جون کا سورج نکلنے سے پہلے مظاہرین پر قابو پایا جائے۔ اس لئیے رات ساڑھے آٹھ بجے بھرپور فائرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔

یہ وہ وقت تھا جب عالمی میڈیا کے نمائیندے بھی اس احتجاج کو رپورٹ کرنے کے لئیے تیاننمن چوک کے قریب عمارتوں سے اس کو کور کر رہے تھے۔

کچھ ہی لمحوں میں بیجنگ کی سڑکیں خون سے لت پت اور قریب کے تین بڑے ھسپتال زخمیوں سے بھر گئے۔

واشنگٹن پوسٹ کے نمائیندے جان پومفرٹ آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہیں کہ لوگ چیخ رہے تھے کہ تصویر نکالو، وڈیو بناؤ، دنیا کو ہمارا حال بتا دو۔

اس کے ساتھ ساتھ نعرہ بازی ہو رہی تھی کہ فاشزم نہیں چلے گا۔

شہر بھر میں اعلانات ہو رہے تھے کہ مارشل لاء میں باہر نکلنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ساری رات بیجنگ، آوازوں کی چیخ وپکار اور گولیوں کی تھڑتھڑاہٹ سے گونجتا رہا۔

فوج گولیاں چلاتی رہی اور نوجوان تیاننمن چوک میں جمع ہوتے رہے۔ انجامِ شب قریب تھی کہ چار بج کر پندرہ منٹ پر ہزاروں کے اجتماع سے بھرے چوک کی بتیاں بجھائی گئیں اور پھر ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ سنائی دی جو ہر طرف سے چوک میں گھس چکے تھے۔

ایک نہ رکنے والی بھاری فائرنگ کا آغاز ہوا۔ جب دوبارہ چوک کی بتیاں جلائی گئیں تو تیاننمن چوک لاشوں سے بھرا تھا جب کہ ہزاروں نوجوانوں نے قریب ہی چین کی قومی عمارت گریٹ ہال آف دی پیپل کے سامنے پناہ لے لی تھی۔

فوجی اب اس عمارت کی طرف آگے بڑھنے لگے۔ نوجوانوں کا خیال تھا کہ اب اس عمارت کے احاطہ میں ان کا قتل عام کیا جائے گا۔

لیکن اعلان ہوا کہ جو طلباءوطالبات پناہ لینا چاہتے ہیں، مظاہرے کا خاتمہ چاہتے ہیں ان کی معافی قبول کی جائے گی۔

اس وقت مظاہرین طلباء کے رہنما فنگ کونج کا کہنا ہے کہ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ مظاہرے کے خاتمہ پر راضی ہیں اور اس طرح تین سے پانچ ہزار طلباء وطالبات کی زندگی اس نے بچا لی۔ گو کہ طلباء و طالبات جاتے ہوئے بھی نعرے لگا رہے تھے کہ وہ پھر آئیں گے لیکن صبح ہو چکی تھی۔ شہر کے مختلف حصوں سے دھویں کے بادل اٹھ رہے تھے جب یہ طلباء اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔

اب جب شہری جاگے اور رات کی تباہی دیکھی تو سینکڑوں طلباء وطالبات کے والدین تیاننمن چوک پہنچنے لگے۔ ادھر حالت یہ تھی کہ چوک خالی کرنے کے بعد اگر کوئی ایمبولینس بھی لاشوں یا زخمیوں کو اٹھانے پہنچتی اس پر فائرنگ کی جاتی اس لئیے ان شہریوں پر بھی فائرنگ ہوئی۔

پھر بھی شہری ٹولیوں کی شکل میں چوک تک جانے کی ہمت کرتے اور فائرنگ کا شکار ہوتے رہے۔ یہ سلسلہ شام تک جاری رہا اور بالاخر دم توڑ گیا۔

چین میں ریڈ کراس کے عملہ نے بیان جاری کیا کہ 2600 شہری ہلاک ہو چکے ہیں تاہم جلد ہی مبینہ دباؤ کے باعث بیان واپس لیا گیا تاہم سرکاری ذرائع نے صرف 240 افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔

5 جون کی صبح کو فوج نے بیجنگ کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا، بیجنگ کی سڑکیں مکمل ویران تھیں اور تیاننمن چوک پر تو جیسے قبرستان کی خاموشی چھائی تھی۔

بالآخر طاقت کے سامنے عوام سر نگوں ہو چکے تھے۔ شہری گھروں میں، ہسپتالوں یا جیلوں میں ہی خاموش بیٹھ چکے تھے۔

چوک سے ٹینکوں کو حرکت دینے کا کہا گیا تو فوجی ٹینک ایک قطار میں تیاننمن چوک پر چلنے لگے۔ تب ہی وہ یادگار لمحہ آیا ایک شہری ہاتھ میں دو شاپنگ بیگز لئیے سڑک پر نمودار ہوا اس نے سفید رنگ کی شرٹ اور کالی پینٹ پہنی ہوئی تھی چلتے چلتے سیدھا سب سے آگے جانے والی ٹینک کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ ٹینک رک گیا۔ سنسان سڑک پر ایک شہری کا ٹینک کے اس طرح سامنے پر غالباً ٹینک کے اندر موجود توپچی حیران ہواہو گا کہ اب یہ کہاں سے آ گیا۔ اس نے ٹینک کا رخ موڑنے کی کوشش کی تو شہری بھی شاپنگ بیگز ہاتھ میں اٹھائے ٹینک کو روکنے کے لئیے بھاگا۔ اب ٹینک رک گئی۔ اس کے پیچھے چلتے ٹینک بھی رک گئے۔

ارد گرد کی عمارتوں میں موجود غیر ملکی صحافی کچھ دیر کے لئیے تو گنگ رہ گئے تھے پھر جلدی جلدی عکس بندی شروع کی۔ شہری دوڑ کر ٹینک پر چڑھا اور ٹینک کے اندر جھانک کر ٹینک سوار اہلکار کو کچھ کہا، پھر نیچھے اتر کر ٹینک کے سامنے کھڑا ہو گیا۔

اتنے میں ایک سائیکل سوار اس کی طرف بڑھا، پھر دو اور شہری ہاتھ اٹھا کر بھاگتے ہوئے اس تک پہنچے اور اس کو تقریباً گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔

اس نہتے اکیلے شہری کی اس حرکت کا مطلب یہ تھا کہ عوامی مزاحمت تب تک ختم نہیں سمجھی جائے جب تک ایک بھی شہری زندہ ہے۔

سرکار نے لگ بھگ تمام غیر ملکی صحافیوں کو کنگال کر ڈالا بلکہ تحریری طور پر بھی ضمانت لے لی کہ اس نامعلوم شہری کی یہ حرکت رپورٹ نہ کی جائے اس کے باوجود اسٹریلوی، امریکی اور برطانوی صحافی تصاویر اور وڈیو چین سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔

لمحوں میں وہ نامعلوم شہری جدوجہد، احتجاج اور مزاحمت کی عالمی علامت بن گیا۔ کسی کو نام معلوم نہیں تھا نہ اس کے چہرے کی تصویر کسی کے پاس تھی اس لئیے مغربی میڈیا نے اسے "ٹینک مین” کا نام دیا۔ پوری دنیا میں ٹینک مین کے نام سے اس اکیلے شہری کی ہمت کی داستان ایسے گئی کہ خود چینی حکمران بھی سوچنے پر مجبور ہوئے اور چین میں بیرونی سرمایہ کاری سمیت سخت اقتصادی پابندیوں کی زنجیریں ہٹا دیں۔ جس کا نتیجہ آج کے ترقیافتہ چین کی شکل میں نکلا۔ کرپشن، اقربا پروری اور بے روزگاری کے خاتمہ کے لئیے ٹھوس اقدامات اٹھائے گئے۔
لیکن ٹینک مین کا مصدقہ سراغ آج تک نہیں ملا۔ ایک غیر ملکی جریدے نے گو کہ اس کی شناخت وانگ ویلن کے نام سے ایک طالب علم کی حیثیت سے کی لیکن یہ ایک اندازہ ہے۔ وہ کون تھا؟ کیا تھا؟ اب کہاں ہے؟ کیا وہ زندہ ہے یا مر چکا ہے؟ کیا اسے موت کے گھاٹ تو نہیں اتارا گیا؟ کیونکہ اس مظاہرے میں گرفتار بہت سے مظاہرین کو سخت سزائیں بھی دی گئیں تھیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ 5جون 1989ء کو بننے والی ان چند لمحوں کی وڈیو میں نمودار ہونے والا بیجنگ کے رہائیشی کو جب کھینچ کر لے جایا گیا تو پھر اس کے ساتھ کیا ہوا؟
ٹینک مین کی کہانی دراصل ایک عام آدمی کی کہانی ہے، ایک ایسا عام آدمی جو لاکھوں کے ہجوم میں کہیں بھی کوئی بھی ہو سکتا ہے۔
ایک شہری کی اقتصادی آزادی، غربت و افلاس کے خلاف جنگ، جمہور کی طاقت کی بالادستی، ناانصافی، میڈیا کی آزادی اور کرپشن کے خلاف جدوجہد کی ہزاروں کہانیوں میں ایک کہانی یہ بھی ہے۔

ٹیگز

سید فخر کاکا خیل

سید فخر کاکا خیل بے باک آواز کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر، ریسرچر، پروڈیوسر اور صحافی ہیں جو کہ مختلف قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے سیاسی اور سماجی امور کے حوالے سے ماہر جانے جاتے ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close