بات ساری پلاننگ کی ہوتی ہے بھائی

کبھی ہم نے نہیں سنا کہ جانوروں، پرندوں، ابی جانوروں اور حشرات الارض نے کبھی کسی چیز کی منصوبہ بندی کی ہو ۔اپنی زندگی گزارنے کے لئے انہوں نے کچھ سوچا ہو ۔کہ کل ہم نے کیا کرنا ہے ۔

اُن کی زندگی منصوبوں سے عاری ہوتی ہے ۔انہیں اس بات کا پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کل کیا کریں گے ۔بھیڑ بکریوں کو اُن کا مالک صبح سویرے ہانک لیتا ہے ۔پالتو جانوروں کو خوراک فراہم کردیتا ہے ۔کام والے جانوروں کو کام کے لئے روانہ کردیتا ہے ۔ سمندری جانور بغیر کسی پلاننگ کے سمندر میں پھرتے ہیں، خوراک تلاش کرتے ہیں یا پھر کسی کا خوراک بن جاتے ہیں ۔اسی طرح پرندوں کا بھی یہی حال ہوتا ہے اُ ن کے پاس کوئی روزانہ یا سال کا منصوبہ نہیں ہوتا ۔وہ بچوں کے لئے گھونسلا بناتے ہیں ۔ان کے لئے خوراک کا انتظام کرتے ہیں ۔اور شکاری کے ہتھے چڑھ گئے تو زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔انسان ہی وہ واحد مخلوق ہے جو منصوبہ ساز ہے ۔ہر وقت کسی نا کسی منصوبے میں برسرپیکار ہوتا ہے ۔وہ منصوبہ ناکام ہو یا کامیاب اُس کے ذہن میں کچھ نا کچھ چلتا ہی رہتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: قبائل: دا زان لہ صوبہ دہ

اب انسانی منصوبے کامیابی سے ہم کنار بھی ہوتے ہیں اور ناکام بھی ہوجاتے ہیں ۔اس سے اسے فرق پڑتا ہے ۔جب اس کا منصوبہ ناکام ہوجاتا ہے ۔تو ساری محنت اور پیسہ ضائع ہوجاتا ہے پھر بھی وہ منصوبہ سازی سے باز نہیں آتا ۔وہ دوسرے منصوبے اور سوچ کے ساتھ میدان میں آجاتا ہے ۔جس میں اسے کامیابی نصیب ہوجاتی ہے ۔کبھی کبھار پھر اپنے اسے منصوبے کو وہ مزید بڑھاوا دینے کے لئے نئے نئے منصوبے بناتا ہے ۔ایک کاروباری شخص کو لے لیتے ہیں ۔اُس نے ایک کمپنی شرور کردی، وہ کامیاب ہوگئی۔دوسری کمپنی شروع کرنے کی پالاننگ کی ۔مقابلے کی دوڑ میں اور کمپنیوں سے مقابلے کے لئے منصوبے بنائے ۔کمپنیوں پر کمپنیاں میدان میں آئیں ۔وہ سمجھتا ہے کہ اُس کی منصوبے کامیاب ہورہے ہیں ۔اور وہ بڑا آدمی بن گیا ہے ۔کیونکہ اسکی منصوبہ بندی ٹھیک تھی ۔

کبھی کبھار کوئی سا بھی کام شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔پھر چیزیں دیکھی جاتی ہیں ۔کیا کرنا ہے کس طرح کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے ۔یہ سب چیزیں دیکھی جاتی ہیں تب پلاننگ کی جاتی ہے ۔جب ایونٹ یا کام مکمل ہوجاتا ہے تب دیکھا جاتا ہے کہ کہاں غلطی تھی کہ آئندہ وہ غلطی نہ ہو ۔جس سے منصوبہ فلاپ ہوسکتا ہے ۔ہم آکثر شادی بیاہ یا دیگر پروگراموں کے آخر میں سنتے ہیں کہ پلاننگ ٹھیک تھی اس لئے کامیابی ملی، پلاننگ میں غلطی تھی اس لئے ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔کبھی کسی اور چیز کو دوش نہیں ٹھہرایا جاتا۔ ساری بات منصوبہ بندی پر ٹھہر جاتی ہے ۔ کسی کے خلاف سازش رچانی ہو، منصوبہ بندی کی جاتی ہے، سیاسی جماعت کو آگے لانا ہو حکمرانی کرنی ہو، منصوبہ بندی کی جاتی ہے، ملک کو کس طرح چلانا ہے منصوبہ بندی، دشمن کو کیسے زیر کرنا ہے منصوبہ بندی،. بیماری سے بچاو کیسے ممکن ہے منصوبہ بندی،سڑک ڈیم کیسے بنانے ہیں منصوبہ بندی، رینکنگ میں کیسے آنا ہے منصوبہ بندی، ٹی آرپی کیسے بڑھانی ہے منصوبہ بندی، کیسے دوسرے کو زیر کرنا ہے منصوبہ بندی، گھر کیسے بنانا ہے منصوبہ بندی، بچوں کو کہاں پڑھانا داخل کرانا ہے، انہیں کس فیلڈ میں لے کر جانا ہے منصوبہ بندی،. شادی کے لئے منصوبہ بندی، بچوں کے لئے منصوبہ بندی، ہر جگہ دیکھیں ہر چیز کے لئے منصوبہ بندیاں ہوتی ہیں ۔اور جن کی منصوبہ بندی بہترین ہوتی ہے وہ کامیابی سے ہم کنار ہوتے ہیں اور جو اس میں ناکام ہوتے ہیں اُن کی پلاننگ میں غلطیاں ہوتی ہیں ۔ یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سب چیز اچھی پلا ننگ کے بغیر نامکمل ہوتی ہے ۔

ان سب پلاننگ کے ساتھ ساتھ کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ یہ دنیاوی منصوبے کچھ بھی نہیں ہیں ان کی کوئی حثیثت ہی نہیں ہے ۔ہم بچوں کو اعلی تعلیم دلائیں، اچھا گھر دلائیں، اچھے خاندان میں شادی کرائیں انہیں ملازمت دلائیں مگر اس کے ساتھ ہم انہیں دینی تعلیم سے بے بہرہ کردیں تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ۔ہم خود اعلی مقام پر پہنچ جائیں اخرت کے لئے کوئی تیاری نہ کریں تو ہماری منصوبہ بندی کیا ہوگی ۔یعنی کہ ہم گھر سے ذہن میں بہت سارے منصوبے ڈال کر نکل جائیں، راستے میں زندگی دغا دے جائے اور سارے منصوبے ملیامیٹ ہوجائیں ۔ اس دنیا کی مثال بھی ایسی ہے ۔جو ایک منصوبہ ہی ہے ۔ جس کے لئے ہمیں منصوبہ بندی ہی کرنی ہے اور اس منصوبے کے لئے ہی ہمیں لایا گیا ہے ۔جو ہمارا منصوبہ ساز ہے اُس نے اپنی عبادت کے لئے ہی ہمیں زمین پر اتارا ہے، اُسی اللہ تعالی کی وجہ سے ہم یہ سارے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں، ہمارے منصوبوں کو تقویت اسی رب کی وجہ سے ملتی ہے مگر ہم اپنے منصوبوں میں اپنی رب کا منصوبہ بھول جاتے ہیں اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ہمیں پیدا کیوں کیا گیا ہے. ہمارے یہ دنیاوی منصوبے کسی کام کے نہیں البتہ وہ منصوبہ کامیاب ہوگا جو ہمیں اللہ سے ملاتا ہے اور اس کے لئے ہمیں سب منصوبوں کو بالائے طاق رکھنا ہوگا ۔اور آخرت کے منصوبے کے لئے کوشش کرنی ہوگی تب ہی ہماری کامیابی ہوگی ورنہ یہ سارے منصوبے کسی کام کے نہیں ۔

ٹیگز

اے وسیم خٹک

اے وسیم خٹک صحافت کے عملی میدان میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ مختلف اداروں کے ساتھ منسلک رہے ہیں اور ان کی تحریریں مختلف آن لائن اور پرنٹ اخبارات و رسالوں میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close