وزیرستان کی مقتول بچیاں اور ہمارے قوم پرست

وزیرستان میں غیرت کے نام پر قتل کی جانیوالی بچیوں کی وجہ سے ہم سب غمگین ہیں۔۔ مگر جس طرح سے پشتون تحفظ موومنٹ کی  گلالئی اسماعیل امریکہ میں بیٹھ کر چیخیں مار رہی ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ پشتون علاقوں میں اسقاط حمل کی حوصلہ افزائی کرنیوالی آج وزیرستان کی بچیوں کے لئے رو رہی ہے۔ محسن داوڑ صاحب بھی واویلہ کررہے ہیں کہ ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی ،اس لئے ان بچیوں کا قتل ہوا۔پشتون قوم پرستوں نے پی ٹی ایم میں گھس کر جس طرح وزیرستان کی قبائلی روایات، اقدار اور ثقافت کی دھجیاں اڑا کر رکھی ہیں ،یہ قتل تو صرف ایک ٹریلر تھا۔ دیکھیے آگے آگے ہوتا ہے کیا۔ قوم پرست ریاست مخالف تو تھے ہی مگر اب مذہب بیزاری میں بھی اتنا آگے نکل چکے ہیں کہ اب تو کھلم کھلا شعائر اسلام کا مذاق بھی اڑانے لگے ہیں۔ مبارزین نے آزادی کے نام پر روشن خیالی کی جو سوچ قبائلیوں میں  پیوست کردی ہے،اس کے نتائج آپ اگلے سال اسی وزیرستان میں دیکھیں گے۔

قبائلی بنیادی طور پر  قدامت پسند ہیں۔ ان کی صدیوں پرانی روایات ہیں۔ وہ ہر چیز پر سمجھوتہ کرسکتے ہیں مگر اپنی روایات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ دو بچیوں کی شہادت کیلئے میں گلالئی اسماعیل اور عصمت شاہ جہاں جیسی عورتوں کو بھی ذمہ دار ٹھہراتا ہوں۔ جو این جی او فنڈ کیلئے ہر وہ قدم اٹھا سکتی ہیں جس سے بھلے پشتون اقدار تباہ ہوں یا ان کی ثقافت کی دھجیاں اُڑا دی جائیں، ان کو کوئی سروکار نہیں۔ میں بطور پشتون ہاتھ جوڑ کر ان خون آشام درندوں سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا وزیرستان پر رحم کریں۔

“میرا جسم میری مرضی” کے نعرے لگاتے مشر علی وزیر کو اب میدان میں آنا ہوگا اور وانا کے بازار میں کھڑے ہوکر محسود قوم کو بتانا ہوگا کہ غیرت کے نام پر قتل ایک سنگین جرم ہے۔ محسن داوڑ کو میرعلی چوک پر کھڑا ہوکر داوڑ اور وزیر قبیلوں کو بتانا ہوگا کہ اپنی بیٹیوں کو قتل مت کریں بلکہ اسلام کے مطابق ان کی مرضی معلوم کرکے ان کی شادیاں کروائیں۔ پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑے ہوکر ریاست سے وزیرستان کی بچیوں کیلئے کالجز اور یونیورسٹیز کے قیام کا مطالبہ کریں۔ کیونکہ دنیا بدل چکی ہے اور دنیا کیساتھ ساتھ اب قبائلیوں کو بھی بدلنا ہوگا۔ ورنہ امریکہ بہادر اور دوسرے سرپرست کیا کہیں گے کہ مشعال ریڈیو اور وائس آف امریکہ پر آپ کو “پرائم ٹائم” میں خصوصی وقت دے کر آپ نے ابھی تک قبائلیوں کا اکھاڑ کیا لیا۔

ریاستی اداروں  کی تو بات ہی نہ کریں ، وہ اس قابل ہوتے تو مختاراں مائی کو اب تک انصاف دلا دیتے یا لاہور ہائی کورٹ میں معصوم بچوں کیساتھ زیادتی کی ویڈیو بناکر بین الاقوامی ریکٹس کو بیچنے والے کو ضمانت دیتے؟۔

آپ کے لروبر کے نعرے کھوکھلے ہوچکے ہیں۔ افغان طالبان دہشت گرد ہیں یا مجاہدین، یہ آپ کے دائرہ کار اور سمجھ سے باہر کی باتیں ہیں۔ جو کام آپکا ہے اس کو سمجھیں اور حقوق کیساتھ ساتھ اپنے قبائلیوں کو فقط یہ بتا دیں کہ آپ کی روایات اب فرسودہ ہوچکی ہیں۔ پھر میں مانوں کہ آپ کتنے پانی میں ہیں۔

ٹیگز

عارف خٹک

عارف خٹک بے باک لکھاری ہیں اور ان کے کے منفرد انداز تحریر کے باعث ہمیشہ قارئین کی بے حد پذیرائی ان کے حصے میں آتی ہے

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close