نجی تعلیمی اداروں کیخلاف سازش، کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے

قسط نمبر 1

کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ نوجوان پر دس سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کا الزام تھا۔ محلے والے بھی ان کے کردار اور کرتوتوں کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور تھے۔

قریبی مخلوط نظام تعلیم کے نجی ادارے میں داخلہ نہ دینے پر دل میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔ اس نے فیس بک پر”صبا گل“کے نام سے فیک اکاؤنٹ بنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی فرینڈ لسٹ ساڑھے چار ہزار کے لگ بھگ بن گئی۔

کچھ دن قبل اس نے ایک پوسٹ وائرل کیا کہ سکول بند ہیں، مگر پرائیویٹ سکول کی فیس لینے کا سلسلہ جاری ہے، نقصان بچوں کی پڑھائی کا ہے۔بچوں کے والدین کاروبار بند ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں، حکومت پرائیویٹ سکولوں کو مارچ، اپریل، مئی کی فیس لینے سے روکے اور یہ بھی لکھ دیا کہ تمام سوشل میڈیا ٹیم اس مہم میں حصہ لے۔


مہوش کی کہانی واقعی دلچسپ تھی وہ بولی عبداللہ!اب ”صبا گل“ کی فرینڈ لسٹ میں جتنے بھی ایر ا غیر ا نتھو خیرا یہاں تک کہ ٹھرکی مزاج میونسپل کمیٹی کے کلرکس، پنشنیئرز، نام نہاد سماجی و سیاسی شخصیات و فیس بک پیجز کے ایڈمن ان کے حامی بن گئے اور انہوں نے نے پوسٹ اتنا شیئر کیا کہ آج وہ لوگ جو یہ بھول گئے کہ پرائیویٹ سیکٹر نے پاکستان میں تعلیمی شرح خواندگی کو 52فیصد تک بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا بھی اسے ملک کا سب سے اہم ترین مسئلہ سمجھ بیٹھے ہیں۔


مہوش نے ”صبا گل“ کا فائل فوٹو دکھایا۔واقعی پروفائل فوٹو کے انتخاب کرنے والے کی ذہنیت کا ثبوت تھا۔ لڑکی کم سن تھی مگر اس عمر میں وہ ان تمام چیزوں کی مالک تھی جو ٹھرکی مزاج والوں کے سینے میں ہلچل پیدا کر دے۔

مہوش نے میری توجہ پروفائل فوٹو سے ہٹاتے ہوئے کہا عبداللہ!واقعی سوشل میڈیا ایک ہتھیار ہے مگر ہمارے ملک میں یہ ہتھیار ان جیسے ”صبا گل“ کے ہاتھوں میں ہے جن کو نہ آئے کی شرم ہے اور نہ گئے کا لحاظ۔اس نے ایک گہرا سانس لیا اور بولی! مجھے انگریزی جھاڑنی ہے نہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی افادیت و اہمیت بیان کرنی ہے۔ اپنی تعلیمی قابلیت و تجربے کی تشہیر نہیں کرنی بس چند گزارشات ہیں جو آپ کے توسط سے ہر خا ص و عام تک پہنچانا مقصود ہے۔


دیکھیں! تمام والدین اپنی آمدنی اور نجی ادارے کی فیس کو مد نظر رکھ کر بچوں کو داخل کراتے ہیں۔ یہ لاک ڈاؤن مارچ سے شروع ہوا۔ کیا ان والدین کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ بچوں کو نیا یونفارم بھی بنوا کے دینا ہے، کتابیں، کاپیاں وغیرہ بھی خریدنی ہوں گی۔

ایک تسلسل ہے جو چلاآرہا ہے نئے سیشن کے آغاز پر یہ تمام لوازمات پورے کرنے ہوتے ہیں۔ اگر مسئلہ ہے تو کتابوں، کاپیوں اور یونیفارم کا بھی ہے۔ہم لوگ اگر ”صبا گل“ کے مہم کا حصہ بن گئے اور کامیاب بھی ہوگئے تو کیا یہ ”صبا گل“ بچوں کے یونیفارم، کاپیوں، شوز اور کتابوں کی فراہمی کا مہم چلائے گا۔ ہرگز نہیں۔

مبشر لقمان ہو یا سستی شہرت حاصل کرنے کرنے والا کسی بھی شعبہ وطبقہ سے وابستہ فرد حکومت کو اپنی تجاویز دیں کہ نیا تعلیمی سال کیسے شروع کیا جائے،سرکاری سکولوں کو کتابیں کب تک اور کیسے فراہم کی جائیں گی۔وبائی عہد میں تعلیمی محرومیاں کیسی پوری کی جائیں گی۔

نجی تعلیمی اداروں میں یتیم کی فیس معاف ہے، غرباء دو بہن بھائیوں یا اس سے زائد کے لیے خصوصی رعایت ہے۔ اس کے علاوہ جو مزدورکار اور دیہاڑی دار طبقہ راشن اور امداد کیلئے در بدر کی خاک چھان رہا ہے ان کے بچے پرائیویٹ سکولوں میں نہیں پڑھ رہے۔

ان کے لیے ٹاٹ تک میسر نہیں وہ دسمبر میں بھی ننگی اور گیلی زمین پر بیٹھتے ہیں۔سخت سردی سے ان کے دانت بجنے لگتے ہیں۔ جب دھوپ اتنی تیزہوتی ہے کہ چیل بھی اپنا انڈا چھوڑدے یہ بچے ایک درخت کے سائے میں الف سے انار اور ب سے بکری پڑھ رہے ہوتے ہیں۔

ان کے گیس، بجلی اور پانی کے بلز معاف کرانے کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔ شیلٹرہوم اور لنگر خانوں کی انتظامیہ بھی منظر عام سے غائب ہوگئی ہے وہ بھی بچوں کی فیس معاف کرانے کی مہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔


ہمارے محلے میں ایک ٹھرکی بڈھا ہے جو راستے میں ہر گزرنے والی خاتون کو اس مرغی کی طرح دیکھتا ہے جس نے پہلی بار انڈا دیا ہو جن کے تمام بچوں کے ناک نقشے ایک دوسرے سے نہیں ملتے وہ بھی نجی تعلیمی اداروں کو مافیا کہتا ہے۔

آپ کو یہ بھی بتاتی چلوں کہ گزشتہ دنوں ایک بیوہ خاتون نے کہا بیٹا ان لوگوں کو زمین چاٹ گئی یا آسمان نگل گیا جو گھر گھر جاکر شناختی کارڈ جمع کرارہے تھے وپ کہا کرتے تھے اماں فوٹو سٹیٹ کی دکانیں بند ہیں ایک دکاندار گھر میں کام چلارہاہے وہ ایک کاپی کے تیس تیس روپے لے رہا ہے ہم نے تیس تیس روپے فوٹوکاپی کرنے کے دیئے ہیں۔

اب یہ لوگ دوربین میں بھی نظر نہیں آرہے اگر راشن نہیں دے سکتے تو ہمیں اپنے پیسے واپس کردیں ان کے گھر جاتے ہیں تو گھر کے دروازے سے ہی رخصت کردیتے ہیں ان کے موبائل نمبرز بھی بند ہیں۔ میرے بھائی نے دیکھا توان میں سے ایک آن لائن تھا وہ چار منٹ پہلے ایک پوسٹ شیئر کر چکا تھا کہ پرائیویٹ سکولز انتظامیہ غریب والدین پر رحم کریں۔ اور لوٹ مار کا بازار بند کردیں۔


نجی سکول میں جن والدین کے بچے پڑ ھ رہے ہیں وہ اپنی ہر مجبوری سکول انتظامیہ کے ساتھ شیئر بھی کرتے ہیں اور ان کا ہرممکن ازالہ بھی کیا جاتا ہے ہر جائز عذر کو قبول بھی کیا جاتا ہے۔اس وبائی عہد کے متاثرین میں سے سکول انتظامیہ ان کے اہل خانہ اور ان اداروں میں پڑھانے والا سٹاف بھی ہے۔

وہ کرایہ دار اور مکان کا مالک بھی ہے۔ سٹیشنری اور یونیفارم کے کاروبار سے وابستہ افراد بھی ہیں کلرک اور چوکیدار بھی ہے۔ اگر سو چنا ہے تو ہرزاویہ سے سوچیں اور مہم چلانی ہے تو حقیقی مسائل اجاگر کریں۔ دس سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کرنے والے اور مخلوط نظام تعلیم کے نجی ادارے میں داخلہ سے محروم”صبا گل“ کے انتقام کا حصہ نہ بنیں۔

مہوش نے کہا میں بھی نجی تعلیمی ادارے میں پڑھاتی ہوں اور ہم بھی کرونا وبائی دورکے متاثرین میں شامل ہیں ہم مقدس پیشہ سے وابستگی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

تین ماہ سے ہمیں بھی تنخواہ نہیں ملی ہم اگر ہنستے ہیں تو ہمارے ہونٹوں میں زندگی پیدا نہیں ہوتی۔اور کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔(جاری ہے)

ٹیگز

عبداللہ خان حیدر

عبداللہ خان حیدر ایک منجھے ہوئے سینئر صحافی ہیں مختلف قومی اخبارات کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ گذشتہ کئی سالوں سے بے باک آواز کے ساتھ بطور چیف رپورٹر منسلک ہیں۔ ان سے ذیل وٹس ایپ نمبر کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے 0334-8270837

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close