کورونا سے نہیں صاحب! بھوک سے ڈر لگتا ہے۔ مجید چاچا کی کہانی

عبدالمجید چاچا کوہاٹ شہر کے وسط میں ایک تنگ و تاریک گلی کوچہ رحمانیہ میں مقیم ہیں. جب بھی کسی سے اپنا تعارف کراتے ہیں تو کہتے ہیں ” میں عبدالمجید قیمے والا”

چار جوان بیٹیوں اور تین بیٹوں کے والد ہیں ایک بیٹا کسی موبائل کمپنی فرنچائز میں کمیشن ایجنٹ ہے لیکن کورونا وائرس وباء کے باعث اب یہ دفتر بھی بند پڑا ہے، یعنی دفتر بند تو صارفین کا آنا بھی بند اور پھر کمیشن بھی بند.

عبدالمجید چاچا قصائی کی دکان سے گوشت لیکر اسی گلی میں تھڑا لگا کر قیمہ بیچتے ہیں اور اسی سے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں اور ان کی تعلیم کے اخراجات پورے کرتے ہیں.

corona vs hunger

جب اٹھتے بیٹھتے کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی باتیں ہونے لگیں اور ہمارے سوشل میڈیا کے بھائی سرکاری افسران اور سیاستدانوں کی روزمرہ سرگرمیوں کو کوریج دینے کی ذمہ داری نبھانے لگے تو ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ ایسے لوگوں سے ملا جائے جو اس لاک ڈاؤن اور دکانوں و کاروبار کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات کا بری طرح شکار ہوئے.

اس طرح اپنے ایک دوست نعمت رضا (جو کہ بے باک آواز کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں) کو کیمرہ تھماتے ہوئے عبدالمجید قیمہ والے کے گھر کا رخ کیا

ان کے گھر کے مرکزی دروازے پر لگا ہوا پردہ اٹھا کر دیکھیں تو یہ مکان نہیں بلکہ ایک کھنڈر ہے جس میں عبدالمجید رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں یہ جگہ مکان سے کھنڈر میں کیسے تبدیل ہوئی یہ ایک الگ کہانی ہے جو کسی اور دن بیان کروں گا.

مکان کی تمام دیواریں اور چھت منہدم ہو چکے ہیں گھر کا سارا سامان کھلے آسمان تلے پڑا ہوا ہے اور ایک کنارے پر پلاسٹک کا کچھ گز پر محیط ٹکڑا پڑا ہوا ہے، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ جب بھی بارش ہوتی ہے تو پھر گھر کے قیمتی سامان کو اس پلاسٹک سے ڈھانپ لیتے ہیں، صحن کے ایک کونے میں خیمہ لگا ہوا ہے جس میں گھر کے سارے افراد رات بسر کرتے ہیں.

جب کورونا وائرس کے باعث بازار بند ہوئے تو عبدالمجید چاچا کا کام بھی ٹھپ ہو گیا. وہ اپنے بیٹے بیٹیوں کے ساتھ گھر پر بیٹھ گئے ہیں.
جب ان سے کورونا وائرس سے بچاؤ کے حوالے سے بات ہوئی تو وہ اس حالت سے پیدا ہونے والی مشکلات بیان کرنے لگے ، اس کی آنکھیں بھر آئیں اور کہنے لگے.

#coronavshunger

صاحب کورونا وائرس سے نہیں بھوک سے ڈر لگتا ہے، پہلے تو اپنی جوان بیٹیوں کی عزت کا خوف رات کو سونے نہیں دیتا تھا اب تو بھوک سب کو سونے نہیں دیتی، راشن والے آئے تھے نام لکھ کر گئے ہیں معلوم نہیں کب آئیں گے، آئیں گے بھی یا نہیں.

عبدالمجید چاچا کی بات سن کر مجھے ایک جھٹکا سا لگا اور میری سوچ کی نظریں اس کھنڈر سے نکلتی ہوئی شہر بھر میں پھیل گئی . معلوم نہیں کتنے لوگ اور خاندان ہوں گے جو کہ اس قسم کی مشکلات کا شکار ہوں گے.

دوسری جانب غریبوں کو راشن دینے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے درجنوں گروپ بھی بن گئے ہیں اوپر سے صوبائی حکومت نے بھی لاک ڈاؤن کی صورت میں عبدالمجید چاچا جیسے غریب لوگوں کی مدد کا اعلان کیا ہوا ہے لیکن شاید میرے جیسے بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ خدشہ بھی جنم لے رہا ہو کہ راشن کے تقسیم کے معاملے میں شفافیت کا کتنا خیال رکھا جا رہا ہے.

کیا ایسے لوگوں کی نشاندہی کے لیے کسی سروے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے یا صرف ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں بیٹھ کر یہ طے کیا گیا ہے کہ کسی مخصوص علاقے میں جاکر پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر راشن تقسیم کر دیا گیا ہو اور پھر سوشل میڈیا پر یہ تصاویر اپ لوڈ کر دی گئی ہوں تاکہ ڈونر کو یقین ہو جائے کہ کام ہو رہا ہے.

ٹیگز

ممتاز بنگش

بے باک آواز کے مدیر اعلیٰ ہیں کوہاٹ سمیت قبائلی اضلاع سے متعدد قومی اور بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close