جن سے بھوک کے ڈر نے عالمی وباء کا خوف بھگا دیا

کورونا وائرس نے اس وقت دنیا بھر میں تباہی مچائی ہوئی ہے۔ لاکھوں افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے ہزاروں نے موت کو گلے لگا لیا ہے۔

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماہرین کی جانب سے یہی حل بتایا جا رہا ہے کہ صفائی کا خیال رکھا اور گھروں تک محدود رہا جائے۔

جب بھی گھر سے باہر نکلنا پڑے تو چہرے پر ماسک پہنیں ، ہاتھ ملانے سے گریز کریں ۔

ہاتھ ملانا اور گلے لگنا اگر چہ ہماری ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے لیکن کچھ عرصے تک ہاتھ ملانے اور گلے لگنے سے گریز کیا جائے۔

کوہاٹ۔ کورونا سے بچاؤ کے لیے پولیس پر غیر سنجیدگی کا الزام

وقتاً فوقتاً ہاتھوں کو صابن یا ڈیٹول سے دھویا جائے ہاتھ دھونے کا موقع نہیں تو سنیٹائزر کا استعمال کیا جائے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کا ابتدائی ایام کا موازنہ اٹلی کے ساتھ کیا جائے تو پاکستان میں حالات اٹلی سے کہیں زیادہ تشویشناک ہیں۔

ایک طرف وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن کو آخری آپشن قرار دیا ہے تو دوسری جانب سوشل میڈیا میں حکومت پر لاک ڈاؤن کےلیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

سیاسی جماعتیں بھی اس بات پر بضد ہیں کہ وزیراعظم لوگوں پر رحم کرتے ہوئے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن اعلان کریں اور زبردستی لوگوں کو اپنے گھروں تک محدود رکھنے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کوہاٹ کی ضلعی انتظامیہ نے بھی احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے ضلع بھر میں دفعہ 144 کے تحت پانچ یا پانچ سے زیادہ افراد کے ایک جگہ پر اکٹھا ہونے پر پابندی عائد کی ہے۔

تمام ہوٹل اور ریستوران، حجام، شاپنگ مال، اور دیگر تجارتی مراکز کے بند رکھے جانے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

احتیاط میں ہی نجات ہے

لیکن بعض مقامات پر دیکھا جائے تو ڈپٹی کمشنر کے احکامات صرف اعلانات تک محدود ہیں اکثر مضافاتی علاقوں میں کھیلوں کے میدانوں اور دکانات کے قریب لوگوں کے جمگھٹے دیکھنے کو ملتے ہیں، شاید اس کی بڑی وجہ لوگوں میں آگاہی کا نہ ہونا بھی ہے۔

راشن کی محبت اور کورونا کا خوف

وزیراعظم پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں غریب اور دہیاڑی والے مزدوروں کو راشن دیا جائے گا تاکہ کام نہ ہونے کی صورت میں ان کے بچوں کو بھوکا نہ سونا پڑے۔

عمران خان کے اس اعلان کے دیکھا دیکھی الیکشن اور سیاست کے خواہشمند چھوٹے بڑے کارندے بھی میدان میں آگئے ہیں۔

کہیں پر وٹس ایپ گروپوں کے ذریعے چندہ مہم زور و شور سے چلائی جا رہی ہے تو کہیں پر کورونا وائرس سے بچنے کی صورت میں اپنے لیے ووٹ پکے کرانے کے لیے لوگوں کی فہرست بنائی جا رہی ہے تاکہ انہیں چندہ ملے یا نہ ملے لیکن یہ احساس ضرور ہو کہ ملک صاحب، کونسلر صاحب اور ایم پی اے اور ایم این اے صاحب نے ان کے لیے بھاگ دوڑ ضرور کی ہے۔

اسی طرح کی افواہیں شہر بھر میں پھیلائی جا رہی ہیں اور ناموں کی فہرستیں بنانے کے نام پر مختلف مقامات پر لوگوں کے اجتماعات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

اسی طرح کے اجتماعات دو سے تین بار یونین کونسل جرما کے دفتر کے سامنے ، مسلم آباد اور چمبئی میں دیکھنے کو ملے ہیں۔

ان اجتماعات میں لوگوں نے ماسک پہن رکھے تھے اور نہ ہی معاشرتی فاصلے کا خیال رکھا گیا تھا۔

جب لوگوں سے بات کی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ جس کو اللہ چاہتا ہے بیماری لگا دیتا ہے اس لیے ان کی پہلی ترجیح یہی ہے کہ مالی امداد کی فہرست میں ان کا نام درج ہو سکے۔بیماری اللہ کی جانب سے کا یقین رکھنے والے کسی بھی صورت اس بات پر قائل نہ ہو سکے کہ رزق کا معاملہ بھی اللہ ہی کے پاس ہے پھر مالی امداد کے لیے اتنے جھپٹے کیوں؟

وہ یہ بات ماننے کو بھی تیار نہ تھے کہ عقل و شعور کے مالک انسان کو چاہیے کہ وہ بیماری سے بچنے کے لیے احتیاط سے کام لے۔

ضلعی حکومت کا کردار

اس حوالے سے ضلعی حکومت کا کردار بھی کچھ تسلی بخش نہیں ہے کیوں کہ دفعہ 144 کے باوجود لوگوں کا بار بار اس طرح اکٹھا ہونا اور پھر ضلعی حکومت کا حرکت میں نہ آنا یقیناً حکومت کی کمزوری کی جانب اشارہ ہے۔

جب میں نے ڈپٹی کمشنر سے بات کرنے کی کوشش کی تو ان کی طرف سے کوئی جواب نہ مل سکا۔

شاید وہ شہری علاقوں میں حفاظتی اقدامات کے معائنے میں مصروف تھے۔

ٹیگز

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close