کرونا وائرس پر قابو پانے کی اصل تدبیر

عبداللہ!خدا کیلئے سنتے جاؤ۔ میں نے آپ سے احتیاطی تدابیر نہیں سننی بس پلیز آپ کا جو کام ہے، آپ کی جو ذمہ داری ہے آپ وہ نبھائیں اور آپ اپنا فرض اداکریں۔ کیونکہ ہم لوگ تنگ آگئے ہیں۔
آپ میری بات کاٹیں گے نہیں، خاموشی سے سنیں اور بس اس کو خا ص وعام اور حاکم ومحکوم تک پہنچادیں، میں نے کہا آپ اپنی بات جاری رکھیں۔
بولی، لیسن ٹو می!میری حالیہ معلومات کے مطابق کوہاٹ میں 9فلورملز ہیں۔ہم کب سنیں گے کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے کوہاٹ کے ان فلور ملز سے وہ ڈیٹا لے لیا ہے جس میں ایم پی ایز اور ایم این اے کے نورتن کو آٹے کے کوٹے دیئے گئے ہیں وہ بھی ویڈیو پیغام جاری کردیتے ہیں کہ کرونا وائرس کوئی زندہ جاندار نہیں بلکہ ایک پروٹین مالیکیول ہے۔ جس کی بیرونی تہہ پر چربی ہوتی ہے۔

یکوہاٹ میں لوکل ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کی گئی ہے پھر بھی ہر جگہ رش ہے آپ کو سڑکوں پر چہل پہل نظر آئے گی، ٹریفک وارڈن نے ہاتھ ڈھیلا چھوڑرکھا ہے۔
ٹریفک وارڈن کا انچارج ویڈیو پیغام ریکارڈ کروا کر سیکڑوں فیس بک پیجز کو سینڈ کردیتا ہے اس کا پیغام کیا ہوگا ؟ میں بتاتی ہوں۔ کیمسٹری کے قانون کے مطابق ایک جیسی چیزیں ایک جیسی چیزوں کو تحلیل کرتی ہیں تو کرونا وائرس (جو بیکٹیریا کی طرح زندہ نہیں بلکہ بے جان پروٹین ہے) کو الکوحل 65فیصد، کوئی بھی صابن اور 25 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم پانی کافی ہے۔

اشیاء خوردونوش سمیت ہرچیز مہنگی ہوگئی ہے، ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ فوڈ اتھارٹی کے آفس سے لے کر شکردرہ، استرزئی، گلشن آباد اور خوشحال گڑھ تک دکانداروں نے لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے۔
سرکاری نرخنامہ تو دیہی علاقوں کے دکاندارجانتے تک نہیں۔ فوڈ اتھارٹی حکام بھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور عوام الناس کی بھلائی کیلئے ویڈیوپیغام جاری کردیتے ہیں کہ گرم پانی، صابن یا الکوحل سے کم از کم 20 سیکنڈ تک ہاتھ دھونے سے کرونا ملٹی پلائی ہونے کے بجائے ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہو جاتا ہے۔
کرونا نقصان کا عمل اس وقت شروع کرتا ہے جب اسے ملٹی پلیکیشن کے لیے سازگار ماحول میسر آتا ہے۔پروٹین مالیکیول ہونے کی وجہ سے مختلف چیزوں پر اس کی عمر ان چیزوں کی ساخت پر منحصر ہوتی ہے۔

نہر چونگی نمبر 7کے پل یعنی کوہاٹ پولیس چوکی ملزایریا کے بغل میں استعمال شدہ سرجیکل ماسک فروخت ہورہے ہیں، غیر معیاری سینیٹائز ر تقسیم کرکے چندہ اکھٹا کیا جارہا ہے۔
جن لوگوں نے حکومتی امداد کی لسٹوں میں اپنا نام سیاسی اثرورسوخ کی بناء پر شامل کیا ہے انہوں نے بھی سوشل میڈیا پر مستحقین کیلئے چندہ اکھٹا کرنے کا دھندہ شروع کر رکھا ہے۔
دس، دس پندرہ، پندرہ لوگ اکھٹے کریانہ سٹورز، سبزی وفروٹ کی دکانوں اور میڈیکل سٹورز پرعطیات و خیرات مانگ رہے ہیں۔جبکہ متعلقہ حکام کا ویڈیو پیغام ملاحظہ ہو۔کرونا وائرس کی جسمانی ساخت کمزور ہوتی ہے۔ صرف اس کی بیرونی چربی کی تہہ اسے مضبوط بناتی ہے۔ چربی کی یہ تہہ ٹوٹ جائے تو کرونا کا وار موثر نہیں رہتا۔
اس لیے گرم پانی، صابن اور الکوحل سے ہاتھ دھونے سے اس کی بیرونی تہہ ٹوٹ جاتی ہے اور اسے ملٹی پلائی ہونے کا موقع نہیں ملتافطری قانون کے مطابق حرارت چربی کو پگھلا دیتی ہے اور جب گرم پانی، صابن یا الکوحل 65% استعمال کیا جائے تو اس کی چربی کی بیرونی تہہ ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لیے احتیاط کریں

کمسٹری اور بیالوجی کے ماہرین خاموش ہیں ہمیں مسجد کے امام اور نورانی قاعدہ پڑھانے والے ویڈیو پیغام میں بتارہے ہیں کہ کپڑوں، لکڑی اور دھاتوں پر اس کی عمر 3 گھنٹے سے 72 گھنٹوں تک ہوتی ہے۔
لہٰذاان چیزوں کو جھاڑنے یا ہلانے کی صورت میں کرونا وائرس ہوا میں پھیل جاتا ہے جو آسانی سے ناک یا منہ کے ذریعے آپ کے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔
ٹھنڈا موسم اور اندھیرا کرونا وائرس کے لیے محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ اس لیے کوشش کیجیے کہ ائیر کنڈیشنز نہ چلایا جائے۔ اور گھر کی لائٹیں آن رکھی جائیں

جن اراکین اسمبلی کے ذمہ عوام کو ریلیف دینا ہے۔ جن گلیوں میں انہوں نے سینے پہ ہاتھ رکھ کر ووٹ مانگے تھے جس جس دروازے پر انہوں نے دستک دی تھی آج وہاں کے مکین کن مسائل سے دوچار ہیں ان کی خبرگیری لینی ہے وہ بھی رات کو فیس بک پر لائیوآکر کہتے ہیں کپڑے دھونے کے لیے 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر گرم پانی استعمال کیا جائے۔
ٹھنڈے پانی سے اگر آپ کپڑے دھو رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کرونا وائرس کو ملٹی پلائی ہونے کے لیے سازگار ماحول مہیا کر رہے ہیں۔اگر آپ کے گھر میں کارپٹس بچھی ہیں تو ان پر پانی نہ گرنے دیجیے۔
تنگ جگہوں پر وائرس کی کنسنٹر یشن زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذاگھر کے اندر بیٹھنے اور سونے کے لیے تنگ کمروں کے بجائے بڑی جگہ کا انتخاب کیجیے تاکہ کرونا کو کنسٹریٹیڈ ماحول نہ مل سکے۔
کسی بھی سطح کو چھونے کے بعد مثلا گاڑی کا دروازہ، گھر کا دروازہ، یا کوئی اور چیز اپنے ہاتھوں کو فوری طور پر دھو لیجیے۔ کھانا کھانے سے پہلے اور فورا بعد یہی عمل دھرائیے۔
یہ نظر نہیں آتا اس لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے اس سے بچا جاسکتا ہے۔ اور آپ لوگ بھی من وعن اپنی ویب سائیٹس، فیس بک پیج، ٹی وی، یوٹیوب چینل پر نشر اور شائع کردیتے ہیں۔ کرونا وائرس کی پہلی احتیاطی و خاتمے کی تدبیر یہی ہے کہ اپنا اپنا فرض پہچان لیں۔

نوٹ: مضمون نگار کیساتھ ذیل وٹس ایپ نمبر کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے
0334-8270837

ٹیگز

عبداللہ خان حیدر

عبداللہ خان حیدر ایک منجھے ہوئے سینئر صحافی ہیں مختلف قومی اخبارات کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ گذشتہ کئی سالوں سے بے باک آواز کے ساتھ بطور چیف رپورٹر منسلک ہیں۔ ان سے ذیل وٹس ایپ نمبر کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے 0334-8270837

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close