عید کا اعلان نہ کرتا تو ڈبلو ناراض ہو جاتے، مفتی منیب

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے بالآخر شوال کا چاند نظر آنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان میں عشروں سے جاری "چاند اپنا اپنا” کا مسئلہ حل کر دیا اور آج پورے ملک کے باسی کورونا وائرس کا خوف دل سے نکالتے ہوئے عید الفطر منا رہے ہیں اور بے دھڑک ہو کر ایک دوسرے کو عید مبارک کے پیغامات بھیج رہے ہیں یا موبائل فون پر کال کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے عید اور رمضان المبارک کی خوشیاں ایک ہی دن منانے کا موقع اس بد قسمت قوم کو نہیں ملا، پنجاب میں کسی دوست کو عید مبارک کا پیغام بھیجتے تو واپسی جواب آتا کہ آج روزہ ہے ہماری عید کل ہو گی اور ادھر دیکھتے تو چارسدہ سے دوستوں کے خلوص بھرے عید مبارک کے پیغامات آ جاتے۔

اب اللہ بھلا کرے وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی کا کہ جنہوں نے مفتی شہاب الدین پاپلزئی سے ہاتھ ملایا اور چاند چاند ٹؤرنامنٹ کے اکھاڑے میں خود کود پڑے جس کے بعد ممکن ہو پایا کہ پاکستانیوں نے امت مسلمہ کے ساتھ عید منائی۔

اس حوالے سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین نے بھی چاند کی شہادتیں قبول فرمائیں اور عید کا اعلان کیا اگر چہ انہوں نے تفصیلاً میڈیا کے سامنے نہیں کہا کہ اتنے تردد کے بعد کیسے ممکن ہو پایا کہ وہ مفتی شہاب الدین پاپلزئی کے ساتھ ایک دن عید منانے پر راضی ہو گئے۔

حالانکہ کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ چیئرمین صاحب نے کچھ صحافیوں سے اپنی رہائش گاہ پر غیر رسمی بات چیت کی ہے، جو ان سے چاند رات کو دعا لینے گئے تھے۔

چیئرمین صاحب نے انہیں بتایا کہ ان کا دل نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ رویت ہلال کی شہادتیں قبول کر لیں کیونکہ ایک تو ان کی ضد ٹوٹ جاتی دوسرا پنجاب کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کا ایک دن ضائع ہو جاتا جس سے اربوں کے خسارے کا خدشہ درپیش تھا۔

لیکن وہ فواد صاحب کی ناراضگی مول نہیں لے سکتے تھے جوکہ براہ راست اکھاڑے میں کود پڑے تھے اور پھر جب وہ بالکل سامنے آجائیں تو ان کا انداز بھی کاٹ ڈالنے والا ہو جاتا ہے۔

"دیکھیں بھئی! اگر میں ان کی بات نہ مانتا تو ڈبلو ناراض ہو جاتے، اور پھر پوری کمیٹی ہی ختم ہو جاتی، ایسے میں ہم نے بڑے نقصان سے بچنے کے لیے چھوٹا نقصان برداشت کرنے کا فیصلہ کیا جوکہ یقیناً دانشمندانہ فیصلہ ہے اور اس کے دورس نتائج اگلی رویت ہلال شوال تک دکھائی دینا شروع ہو جائیں گے”

چیئرمین کا کہنا تھا ایک وقت پر دو دو محاذ کھولنا اہل عقل و دانش کا کام نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنے سے "طاقت” تقیسم ہو جاتی ہے اور اس کا براہ راست فیصلہ "مخالفین” کو پہنچتا ہے۔

موصوف نے ملنے والوں کو ایڈوانس مبارک باد دی اور معذرت سے کہا کہ انہیں وہ "عیدی” نہیں دے پائیں گے کیونکہ وہ ایک دن قبل عید کا اعلان کرکے پہلے ہی بہت کچھ گنوا چکے ہیں۔

(نوٹ: یہ تحریر خیالی ہے اور محض طنز و مزاح پر مبنی ہے لہٰذہ اس کو سنجیدہ نہ لیا جائے۔ شکریہ)

ٹیگز

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close