کورونا وائرس پھیلانے کی کہانی، ضلعی انتظامیہ نے انکوائری کا اشارہ دے دیا

کوہاٹ کی ضلعی انتظامیہ نے کورونا وائرس کے مشکوک مریض کو آئسولیشن وارڈ یا قرنطینہ میں رکھنے کے بجائے گھر بھیجنے اور بعد ازاں اس کی لاش کو بغیر ایس او پیز کے لواحقین کے ذریعے دفنانے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا اشارہ دے دیا ہے۔

باوثوق ذرائع سے بے باک آواز کو معلوم ہوا ہے کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بشیر احمد نے ڈپٹی کمشنر کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے گذشتہ روز انہیں کورونا وائرس کے ٹیسٹ رپورٹس موصول ہوئیں جن میں ایک شکردرہ کے رہائشی محمد جمیل بھی تھے جو کہ کورونا وائرس کے مشتبہ مریض تھے اور بعد ازاں ان کا ٹیسٹ مثبت آگیا۔

کوہاٹ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال انتظامیہ نے مریض کو قرنطینہ میں رکھنے کی بجائے اپنے گھر لے جانے کی اجازت دی جسے پہلے اپنے گھر شاہ آباد کالونی جرونڈہ لایا گیا جو کہ بعد ازاں انتقال کر گیا اور ان کی لاش آبائی علاقہ شکردرہ لے جائی گئی جن کے جنازے میں مقامی لوگوں اور لواحقین نے شرکت کی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے مزید لکھا ہے کہ چونکہ مریض کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا تھا اس لیے ٹی ایم اے اور مقامی پولیس کو مریض کے رہائشی دونوں علاقوں میں سپرے کرنے اور ان کے رشتہ داروں اور غسل وغیرہ میں حصہ لینے والوں کے ٹیسٹ کے نمونے لینے کی ہدایت کر دی گئی ہے تاہم اس سلسلے میں ایک انکوائری ہونی چاہیے جس میں اس بات کا ادراک کیا جا سکے کہ کیوں اس حوالے سے ایس او پیز کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔

یہ خبر بھی پڑھیں: کوہاٹ ڈویژنل ہیڈ کوارٹرہسپتال سے کورونا وائرس پھیلانے کی ایک اور کہانی

واضح رہے کہ شکردرہ کے رہائشی ایم جمیل قریشی کا ٹیسٹ لے کر انہیں مبینہ طور پر ایک سیاسی شخصیت اور سابق صوبائی وزیر کے کہنے پر کے ڈی اے ہسپتال سے گھر لے جانے کی اجازت دی گئی تاہم ان کی صحت بگڑ جانے کے بعد مریض کو لیاقت ہسپتال کی ایمرجنسی بھی لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی۔

بعد ازاں مریض کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد چند گھنٹوں تک ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کو بند رکھا گیا اور وہاں سپرے بھی کروایا گیا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ جس وقت لیاقت ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں مریض کا معائنہ ہو رہا تھا اس وقت مذکورہ وارڈ میں دو سو کے لگ بھک مریضوں کا آنا جانا بھی ہوا۔

جبکہ مرحوم کی نماز جنازہ اور تدفین میں بھی مقامی لوگوں اور رشتہ داروں نے شرکت کی اور کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تدفین کے لیے جو ایس او پیز مقرر ہیں ان کا خیال نہیں رکھا گیا۔

یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کورونا وائرس کے مشتبہ یا مثبت ٹیسٹوں کے حامل مریضوں کو ہسپتال کی بجائے گھر بھیجا گیا ہو بلکہ اس قسم کی غفلت تسلسل کیساتھ برتی جا رہی ہے۔

اس سے پہلے بھی کے ڈی اے ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر رحیم خٹک مختلف الزامات اور تنقید کا شکار رہے ہیں اور رکن قومی اسمبلی اور چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی نے مذکورہ ایم ایس کو یہاں سے ہٹانے کا کہا تھا لیکن نامعلوم قوتیں اتنے الزامات کے باوجود بھی ایم ایس کے تبادلے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close