آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا دورہ کوہاٹ، شہداء کو خراج عقیدت

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاک فوج کورونا وبا سے بچاؤ کے لیے دیگر اداروں سے تعاون جاری رکھے گی۔

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق  آرمی چیف نے کوہاٹ کا دورہ  کیا اور  یادگارِ شہدا پر پھول رکھے۔

ڈی جی  آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کو  سیکیورٹی کی صورتحال، آپریشنل تیاریوں اور پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی اقدامات سمیت علاقے میں کورونا کے خلاف پاک فوج کی معاونت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

آرمی چیف نے  آپریشنل تیاریوں اور کورونا کے حوالے سے اقدامات اور  بلند حوصلے پر افسران اور جوانوں کی تعریف کی۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق  آرمی چیف نے کمبائنڈ ملٹری اسپتال(سی ایم ایچ) کوہاٹ  کا بھی دورہ کیا اور کورونا سے متعلق سہولیات کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ  پاک فوج کورونا وبا سے بچاؤکے لیے دیگر اداروں سے تعاون کرتی رہے گی اور کوروناسےمتاثرہ افراد تک پہنچ کر ان کی مدد جاری رکھی جائے گی۔

بعد ازاں آرمی چیف اپنا دورہ مکمل کرکے واپس چلے گئے ان کے دورے کو جنوبی اضلاع اور خصوصاً قبائلی اضلاع کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔

تاہم آرمی چیف نے کوہاٹ کے ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال کا دورہ نہیں کیا جہاں وہ دیکھ پاتے کہ صحت کا عملہ کس قدر محدود وسائل میں رہ کر کورونا وائرس کے خلاف اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے اور وہاں زیر علاج مریض کن کن مشکلات کا شکار ہیں۔

بعض حلقوں نے کہا ہے کہ آرمی چیف کو بتایا جاتا کہ کورونا وائرس کے زیر علاج مریضوں کے کھانے پینے کے لیے فنڈز تو موجود ہیں لیکن اس کے باوجود مریض خوراک کی کمی اور صفائی نہ ہونے کا شکوہ کر رہے ہیں اور مجبوراً سماجی شخصیت سلیم الطاف نے چندہ مانگ کر ان مریضوں کے کھانے پینے کا انتظام کیا ہے۔

دوسری جانب آرمی چیف کے دورے کے موقعے پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے بنوں گیٹ چوکی اور پشاور چوک سے لے کر کوہاٹ قلعے تک تمام راستوں پر سیول گاڑیوں اور افراد کا داخلہ ممنوع تھا جبکہ کوہاٹ پریس کلب کو بھی انیس گھنٹوں تک بند رکھنا پڑا اور کسی بھی صحافی کو پریس کلب جانے کی اجازت نہیں تھی۔

کوہاٹ کی عوام نے توقع ظاہر کی ہے کہ آرمی چیف کا دورہ ان کے لیے خوش آئند ثابت ہوگا

ٹیگز

ممتاز بنگش

بے باک آواز کے مدیر اعلیٰ ہیں کوہاٹ سمیت قبائلی اضلاع سے متعدد قومی اور بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close