شہریار آفریدی جان لیں! یہ ایمبولینس ہے کوئی ٹیکسی سروس نہیں

کوہاٹ سے رکن قومی اسمبلی اور وزیر مملکت برائے سیفران شہریار آفریدی اور ڈاکٹروں کے مابین ذاتی معاملے پر ٹھن گئی

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے وزیرمملکت کے خلاف انکوائری کرنے اور ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی ضلعی صدر ڈاکٹر جویریہ نےبے باک آواز کو بتایا ہے کہ گذشتہ دنوں ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں شہریار آفریدی کے سیکرٹری کے والد کا انتقال ہو گیا جس پر وزیرمملکت نے ہسپتال کے ایم ایس کو انہیں میت لے جانے کے لیے ایمبولینس فراہم کرنے کا کہا گیا۔

یہ خبر بھی پڑھیں: جماعت اسلامی نے لاکھوں کا راشن غریبوں تک پہنچا دیا

تاہم ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر رحیم خٹک نے یہ کہتے ہوئے ایمبولینس فراہم کرنے سے انکار کر دیا کہ ہسپتال کو کل پانچ ایمبولنس فراہم کی گئی ہیں جن میں سے تین مقررہ شفٹس میں لگی ہوئی ہیں اور دو ایمبولینس کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے ایمرجنسی صورتحال کی خاطر مختص کی گئی ہیں۔

ڈاکٹر جویریہ کے مطابق ایم ایس کا جواب سن کر شہریار آفریدی آپے سے باہر ہوگتے اور ڈاکٹر رحیم خٹک کو موبائل فون پر گالیاں دینے لگے۔

ڈاکٹر جویریہ نے مزید بتایا کہ وہ بحیثیت صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن شہریار آفریدی کے اس اقدام کی مذمت کرتی ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہیں کہ جلد از جلد معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بنائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ شہریار آفریدی سن لیں کہ ہسپتال کی ایمبولینسز مریضوں کی جان بچانے کے لیے ہوا کرتی ہیں یہ کوئی ٹیکسی سروس نہیں کہ ان کو لاشیں گھروں تک پہنچانے کے لیے ڈیوٹی پر لگایا جائے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹروں کو شہریار آفریدی کے سیاسی اثر و رسوخ سے تحفظ دیا جائے۔

اس حوالے سے جب شہریار آفریدی سے ان کے ایک ذاتی سیکرٹری کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ اپنا مؤقف بیان نہ کر سکے تاہم رکن صوبائی اسمبلی اور وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاءاللہ بنگش نے بے باک آواز کو بتایا یہ معاملہ غلط فہمی کی بنیاد پر پیدا ہوا تھا جسے افہام و تفہیم سے حل کر لیا گیا ہے۔

ٹیگز

ممتاز بنگش

بے باک آواز کے مدیر اعلیٰ ہیں کوہاٹ سمیت قبائلی اضلاع سے متعدد قومی اور بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close