کورونا کے خلاف جنگ. کوہاٹ انتظامیہ کو ناکامی کا سامنا

اس وقت کورونا وائرس نے عالمی سطح پر وباء کی صورت اختیار کر رکھی ہے اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی اس خطرناک وائرس کے خلاف حالت جنگ میں ہیں اور بے بس نظر آرہے ہیں.

تمام متاثرہ ممالک ایک طرف اس وائرس کو روکنے کے لیے نت نئی تدبیریں سوچ رہے ہیں تو دوسری جانب عوام کو سماجی فاصلہ رکھنے کی تلقین دی جارہی ہے کیونکہ عوام کے تعاون کے بغیر اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ناممکن نظر آرہا ہے.

اس وقت پاکستان بھی اسی قسم کی سخت مشکلات کا شکار ہے کیوںکہ ملک بھر میں کورونا وائرس کا شکار مریضوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے.

ان مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت نے تمام اضلاع کو سخت انتظامات اٹھانے کی ہدایت کی جس کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے.

حکومتی اعلامیے کے مطابق نہ صرف پانچ یا پانچ افراد کے ایک ساتھ اکٹھا ہونے پر مکمل پابندی ہے بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ، ٹیکسی سٹینڈ، ہوٹلوں اور ریستورانوں، شاپنگ مالوں، تجارتی مراکز کے کھلا رکھنے پر بھی مذکورہ پابندی عائد ہوگی.

لیکن کوہاٹ‌ میں قائم بعض ملز ابھی تک کھلی ہیں اور مزدوروں کا باقاعدہ آنا جانا لگا رہتا ہے.

کوہاٹ کی سڑکوں پر بھی ٹریفک رواں دواں ہے اور رکشوں و سوزوکیوں میں پہلے سے زیادہ سواریاں بٹھائی جا رہی ہیں.
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر عبدالرحمان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنا مؤقف پیش نہ کر سکے.

ٹیگز

ممتاز بنگش

بے باک آواز کے مدیر اعلیٰ ہیں کوہاٹ سمیت قبائلی اضلاع سے متعدد قومی اور بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close