کرونا وائرس خطرناک، سندھ میں لاک ڈاؤن شروع

پاکستان کے دوسرے سب سے بڑے اور کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے سندھ میں اتوار کی شب 12 بجے سے لاک ڈاؤن کے احکامات پر عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

سندھ میں کورونا کے 333 مریض سامنے آنے اور کراچی میں ایک ہلاکت کے بعد وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اتوار کی شام اعلان کیا تھا کہ رات 12 بجے صوبے بھر کو دو ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن کر دیا جائے گا۔

اس لاک ڈاؤن کے دورا کسی بھی شخص کو غیر ضروری گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم ضروری کام کے لیے جانے والے شخص کو بھی شناختی کارڈ ساتھ رکھنا ہو گا۔ اس کےعلاوہ مریضوں کو ہسپتال لے جانے کی بھی اجازت ہو گی۔

لاک ڈاؤن کے دوران صوبے میں سارے دفاتر بند اور اجتماعات پر مکمل پابندی ہو گی۔

مراد علی شاہ نے بتایا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ایک گاڑی میں ایک ڈرائیور اور ایک شخص کو جانے کی اجازت ہوگی، ضروری چیزیں جیسے کھانے پینے کی فراہمی جاری رہے گی لیکن احتیاطی تدایر اپنانی ہوں گی۔

صوبے میں اس وقت کورونا کے سب سے زیادہ مریض سکھر میں بنائے گئے اس قرنطینہ میں ہیں جہاں ایران سے آنے والے زائرین کو رکھا گیا ہے

تاہم لاک ڈاؤن کی بڑی وجہ صوبائی دارالحکومت کراچی میں اس وائرس کی مقامی منتقلی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ کراچی میں اس وائرس کے جو 123 مریض سامنے آئے ان میں سے 77 میں یہ مقامی طور پر منتقل ہوا۔

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close