تحریک عدم اعتماد، مستقبل کا وزیراعظم کون ہو گا؟

سنیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی نشست پر یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کی خبر آتے ہی اپوزیشن اور حکومتی پارٹیوں میں اعتماد اور عدم اعتماد کی باتیں ہونے لگی ہیں۔

ایک طرف پاکستان جمہوری اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان سر عام اعلانات کر رہے ہیں کہ سنیٹ انتخابات کے نتائج سے واضح ہو چکا ہے کہ وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ میں اپنے ہی لوگوں کا اعتماد کھو چکے ہیں اس لیے قومی اسمبلی میں واضح اکثریت رکھنے کے باجود حکومتی پارٹی کے امیدوار کا ہار  جانا کیا معنی رکھتا ہے۔

آخر ایسی کونسی بات ہے جو کہ سولہ حکومتی ارکان اسمبلی کی ناراضگی کا سبب بنی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ ناراضگی سنیٹ انتخابات میں رسوائی کا سبب بن گئی۔

میڈیا کے مختلف ذرائع میں یہ چہ مگوئیاں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ان ارکان اسمبلی کی ناراضگی کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ وزیراعظم عمران خان خود ہیں

اگر ایسا ہے تو پھر کیوں نا وزیراعظم کو ہی تبدیل کیا جائے۔

اسی مائنس ون کے منصوبے کے لیے راہ ہموار کرنے کا اس سے بہترین جواز اور موقع تو کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اگر یہ لوگ صرف عمران خان سے ناراض ہیں اور اپنی پارٹی کے ساتھ مخلص ہیں تو پھر کیوں ناں اپنی ہی پارٹی کا کوئی دوسرا وزیراعظم لایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: گیلانی کی جیت، عمران خان اعتماد کا ووٹ لیں گے

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اپنی پریس کانفرنس میں کہہ چکے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا چاہتے ہیں۔

اب سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حالات عدم اعتماد یا اعتماد کے ووٹ تک پہنچ گئے اور عمران خان کے اپنے ہی لوگ خان صاحب کے ساتھ ایسا ہی ہاتھ کر گئے جیسا کہ سنیٹ الیکشن میں کر گئے ہیں تو پھر عمران خان کا متبادل کون ہو سکتا ہے یا کچھ عرصے تک وزیر اعظم کون ہو گا؟

کیا وہ شاہ محمود قریشی تو نہیں جو کہ عدم اعتماد کامیاب ہونے یا اعتماد کے ووٹ کی ناکامی کی صورت میں پارٹی کے نئے چنے گئے وزیراعظم ہو سکتے ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کی دوسری طاقتور شخصیت تو جہانگیر ترین ہیں۔ لیکن وہ تو نا اہل ہوچکے ہیں۔

جہانگیر ترین کی نااہلی سے یاد آیا کہ کہیں شاہ محمود قریشی بہت پہلے ہی سے تو اس مقام کے لیے تیاری نہیں کر رہے تھے کیوں کہ ان کی اکثر جہانگیر ترین کے ساتھ پارٹی کے اندر حالات نا خوشگوار رہتے تھے۔

دوسری یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ حفیظ شیخ کی طرح شاہ محمود قریشی بھی پیپلز پارٹی کے بہت خاص رہے ہیں۔

اور یہ آخری والی لائن بہت قابل توجہ ہے کیوں موجودہ حالات پر نظر دوڑائی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کو زرداری صاحب ہائی جیک کر چکے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close