حریم فاطمہ قتل کیس، آئندہ چوبیس گھنٹے اہم، سنسنی خیز انکشافات کا امکان

کوہاٹ

کوہاٹ پولیس کے اندرونی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں حریم فاطمہ قتل کیس میں اہم پیش رفت کا امکان ہے۔

بے باک آواز کو اپنے معتبر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق پولیس کا تفتیشی عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا اور کسی بھی وقت مقامی پولیس ملزمان کو میڈیا کے سامنے لانے کے اعلان کر سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق تین سالہ حریم فاطمہ کے قتل کا کھوج لگانے اور واقعے میں ملوث ملزمان تک رسائی تک پولیس نے انتہائی مستعدی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس سارے عمل کے دوران تھانہ کلچر اور تفتیش کے پرانے اور روایتی طریقہ کار سے اجتناب کرتے ہوئے جدید سائنسی طریقے سے واقعے کی تفتیش کی اور بالآخر ملزمان تک رسائی ممکن ہو پائی ہے۔

اگر چہ ذرائع نے گرفتار ہونے والے ملزمان کے نام اور تعداد بتانے سے گریز کیا ہے تاہم اتنی معلومات حاصل ہو پائی ہیں کہ گرفتار ہونے والے ملزمان میں ایک خاتون شامل ہے جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج پہلے ہی پولیس کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ ملزمان تک پہنچنے کے لیے کل ایک سو پندرہ ملزمان کو شامل تفتیش کیا ہے جن میں چھ خواتین اور ایک سو نو مرد شامل ہیں۔

کوہاٹ کے علاقہ خٹک کالونی کی تین سالہ حریم فاطمہ چوبیس مارچ کو اپنے دادا کے گھر سے نکلی جو کہ واپس نہ آ پائی اور اسی روز تھانہ ریاض شہید میں بچی کی گمشدگی کی رپورٹ بھی بچی کے دادا فرہاد حسین کی مدعیت میں درج کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:

حریم فاطمہ قتل کیس، خواتین بھی شامل تفتیش، کیا خاتون قاتل ہو سکتی ہے؟

حریم فاطمہ قتل کیس، اصل کہانی کیا ہے؟ بے باک آواز کی سنسنی خیز رپورٹ

لیکن پچیس مارچ کو قریبی نالے سے گمشدہ بچی کی لاش ملی جس کے چہرے اور ٹانگوں پر تشدد کے نشانات پائے گئے تھے۔

لاش ملنے کے بعد مقتولہ لڑکی کے رشتہ داروں اور مقامی لوگوں نے نہر پل کے قریب احتجاج بھی کیا تھا اور کئی گھنٹوں تک یونیورسٹی روڈ کو ٹریفک کے لیے بلاک کیا گیا تھا۔

بعد ازاں بچی کی لاش کو جب پوسٹ مارٹم کے لیے ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال لے جایا گیا تو وہاں لیڈی ڈاکٹرز اپنی ڈیوٹی پر موجود نہیں تھیں جس کی وجہ سے مقتولہ کے لواحقین کو ایک بار پھر احتجاج کرنا پڑا اور دو گھنٹوں کے طویل انتظار کے بعد ڈاکٹرز کو پوسٹ مارٹم کے لیے  بلایا گیا۔

رکن صوبائی اسمبلی اور سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے وزیراعلیٰ کے مشیر ضیااللہ بنگش نے دعویٰ کیا ہے کہ غفلت کی مرتکب ڈاکٹروں کو اپنے فرائض سے معطل کیا گیا ہے تاہم عمائدین کا دعویٰ ہے انہیں ڈیوٹی سے برخاست کیا جائے آئندہ کوئی اس قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہ کر سکے۔

کے بارے میں Web desk

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!