پشاورتھیلی سیمیا آگاہی مہم کا آغاز صوبائی اسمبلی سے کر دیا گیا

مقامی این جی او کی جانب سے تھیلی سیمیا کے حوالے سے علاج معالجے اور روک تھام کے حوالے سے آگاہی مہم کا  آغاز صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا سے کردیا گیا.

اس موقع پر سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی نے مہم کا آغاز کیا اور اس حوالے سے مہم کے شرکاء کو اس نیک کام کے شروع کرنے پر سراہا. آگاہی مہم خیبر سے کراچی تک جاری رکھی جائیگی جس میں ہر شہرکے رضاکار اور طلباء و طالبات حصہ لینگے. اس کے پہلے مرحلے میں ایبٹ آباد, مانسھرہ اور مظفر آباد میں آگاہی مہم چلائی جائیگی جس میں میڈیا کے نمائندوں, طلباء و طالبات, اساتذہ کرام اور معاشرے کے دیگر اہم لوگوں کو شرکت کی دعوت دی جائیگی.
دوسرے مرحلے میں اسلام آباد سے روڈ شو کا آغاز ہوگا جو کے رحیم یار خان میں ختم ہوگا. اسکے بعد جنوبی پختونخوا اور وسطی پنجاب میں مہم چلائی جائیگی.

آگاہی مہم میں لوگوں کو بتایا جائیگا کہ تھیلی سیمیا کا خون کے سرطان سے کوئی تعلق نہی بلکہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو اکثر پیدائشی طور پر انسان میں پائی جاتی ہے. اس حوالے سے اگر شادی بیاہ سے پہلے جوڑے اپنا تھیلی سیمیا ٹیسٹ کروالیں تو اسکی روک تھام ہوسکتی ہے. کیونکہ اگر میاں بیوی دونوں میجر ٹریٹ کے زمرے میں آتے ہو تو انکو شادی کرنے یا آگے جاکر بچوں کی پیدائش کے حوالے سے احتیاط برتنی ہوگی کیونکہ انکے ہونے والے بچوں میں میجر تھیلی سیمیا کا عنصر موجود ہوگا.

شادی سے پہلے تھیلی سیمیا کا لازمی ٹیسٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ چند سال پہلے اس حوالے سے ضروری ایکٹ پاس ہوا تھا مگر اس پر ضروری قانون سازی نہ ہوسکی. اس موقع پر سپیکر مشتاق احمد غنی نے کہا کہ انھوں بے اپنے سیکریٹیریٹ کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ تمام متعلقہ محکموں کو بلایا جائے گا اور اس حوالے سے ضروری قانون سازی پر مکمل معلومات لی جائینگی.

اس حوالے سے جو بھی بل لانا اور منظور کرانا ہوگا, وہ خود اسکی نگرانی کرینگے. سپیکر مشتاق غنی نے طلباء کا تھیلی سیمیا کے حوالے سے آگاہی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر انکے جذبے کو سراہا. سپیکر مشتاق احمد غنی نے آگاہی مہم اور روڈ شو کے لئے اپنی طرف سے معقول رقم کا عطیہ بھی دیا

ٹیگز

ممتاز بنگش

بے باک آواز کے مدیر اعلیٰ ہیں کوہاٹ سمیت قبائلی اضلاع سے متعدد قومی اور بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close