موٹروے زیادتی کیس: گرفتار ملزم نے اعتراف جرم کر لیا

لاہور۔

موٹروے زیادتی کیس کے ایک اہم ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جس نے واقعے میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم شفقت واقعے کی مرکزی ملزم عابد علی کا قریبی ساتھی بتایا جا رہا ہے، پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیا جا رہا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پولیس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ملزم شفقت محمود اور ان کے خاندان کے بعض لوگ جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

ملزم کا تعلق ضلع بہاولنگر کے علاقہ ہارون آباد سے بتایا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے چوری کی غرض سے گاڑی کے شیشے توڑے اور اس کے بعد خاتون کی اجتماعی زیادتی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم نے بتایا ہے کہ انہوں نے گاڑی کے شیشے توڑے اور خاتون کے بچوں کو اٹھاکر جنگل کی طرف لے کر گئے اور اپنے بچوں کو بچانے کے لیے خاتون ان کے پیچھے آئی جس کے بعد اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

جیونیوز کے نمائندے احمد فراز نے اپنے نیوز چینل کو بتایا ہے کہ ملزم شفقت نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ ڈکیتی کرنا چاہتے تھے تاہم خاتون کو دیکھ ان پر شیطان حاوی ہو گیا تھا جس کے بعد انہوں نے خاتون کے ساتھ زیادتی کی ہے۔

ملزم نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ وہ اس قسم کی متعدد وارداتوں کے مرتکب ہوئے ہیں اور وہ لوگوں کو لوٹنے کے لیے باقاعدہ خفیہ ٹھکانہ بنا چکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: موٹر وے زیادتی کیس، خاتون نے وقار کو پہچاننے سے انکار کر دیا

واقعے کے ایک ملزم وقارالحسن کے سالے نے بھی آج صبح خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا جس کے موبائل فون ریکارڈ کے مطابق وہ واقعے کے ملزم عابد علی کے ساتھ رابطے میں رہا ہے۔

ملزم عباس کو اس وقت ملزمان کی فہرست میں شامل کیا گیا جب ایک روز قبل گرفتاری پیش کرنے والے ملزم نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

ملزم وقار نے گرفتاری دیتے ہوئے موٹروے زیادتی کیس سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے بیان دیا تھا کہ وہ عابد علی کے ساتھ اس واقعے میں شریک نہیں اور ان کے نام پر رجسٹرڈ جس موبائل سم سے ملزم عابد کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے وہ سم ان کے سالے عباس کے زیر استعمال ہے۔

دریں اثناء میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بتایا ہے کہ ملزم شفقت اور عابد کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے اور بہت جلد ملزم عابد کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔

ٹیگز

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close