کوہاٹ پولیس نے تین دکانداروں کے قتل کے مبینہ ملزمان کو گرفتار کر لیا

چھ ستمبر کو کے ڈی اے میں قیصر اور پندرہ ستمبر کو پشاور چوک میں ارتضیٰ حسن اور سید میرحسن کو دکان کے اندر قتل کیا گیا تھا

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کوہاٹ میں فرقہ ورانہ فسادات کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی خوفناک سازش ناکام بنادی گئی ہے۔

پولیس نے ملک دشمن قوتوں کے ایجنڈے پر کام کرنیوالے تین مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار کرکے فرقہ واریت میں ملوث نیٹ ورک کے خفیہ منصوبے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

گرفتار کیے گئے ملزمان کے حوالے سے منگل کے روز پولیس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران ڈی آئی جی طیب حفیظ چیمہ اور ڈی پی او جاوید اقبال نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ ملزمان نے مستقبل قریب میں مخصوص طبقات سے تعلق رکھنے والے صوبے کی اہم شخصیات کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کررکھا تھا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ملزمان کا کسی مذہبی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تاہم ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں شریک  ایک ملزم سابقہ ریکارڈ یافتہ جرائم پیشہ ہے جسکی مجرمانہ سرگرمیوں کا ریکارڈ ملک کے دیگر شہروں کے تھانوں میں موجود ہے۔

مذکورہ ملزم کے خلاف ڈکیتی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمات نمبر569/20 تھانہ ائیر پورٹ راولپنڈی میں درج ہیں۔

پولیس نے بتایا ہے کہ پکڑے جانیوالے شدت پسندوں نے مبینہ طور پر پوش علاقہ کے ڈی اے سیکٹر 1کی مارکیٹ میں جنرل سٹور کے مالک قیصر عمران کو قتل کرنے اور جبکہ پندرہ ستمبر کو پشاور چوک میں واقع میڈیکل سٹور کے مالک ارتضیٰ حسن کواسکے ساتھی سید میر حسن جان سمیت دوہرے قتل کی واردات میں ملوث ہونے کا اعتراف جرم کرلیا ہے

پولیس کے مطابق دونوں واقعات کے سی سی ٹی وی فوٹیج اور جائے وقوعہ سے فارنزک شواہد حاصل کئے گئے جسکی روشنی میں ایک انتہائی اہم بات سامنے آئی کہ پشاور چوک میں دوہرے قتل کی واردات کے مرتکب مسلح ملزم کوگرفتاری سے بچانے کیلئے موقع پر موجود اسکے تیسرے شریک جرم ساتھی نے راستہ بتانے اور فرار ہونے میں اسے مدد فراہم کی جسکے سہولت کارانہ کردار کو سامنے رکھتے ہوئے پولیس نے شناخت کے بعد سراغ لگا کرانہیں حراست میں لے لیا جس نے ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران واردات میں ملوث دونوں ساتھیوں کے نام اگل دئیے اور پولیس نے ایک اہم کارروائی میں ٹارگٹ کلنگ کی ان وارداتوں میں ملوث دونوں مرکزی ملزمان کوبھی گرفتار کرلیا ہے۔

زیر حراست ملزمان کے نام قانونی پیچیدگیوں اور نیٹ ورک کی مکمل بیخ کنی کے باعث انتہائی صیغہ راز میں رکھے جارہے ہیں اور انکی دیگر شہروں میں کریمینل ریکارڈ کے بارے میں دوسرے صوبوں کی پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیوں سے بھی رابطے کئے جارہے ہیں۔

ابتدائی تفتیش کے دوران زیر حراست شدت پسندوں کے اعتراف جرم کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ انکا کسی مذہبی تنظیم سے تعلق نہیں۔

خیال رہے کہ پندرہ ستمبر کے واقعے کے بعد مقتولین کے لواحقین نے پشاور چوک میں لاشیں رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اسی دوران ایک مسلحہ شخص نے کمیٹی چوک میں فائرنگ کی جس کے ردعمل میں دکانداروں اور نمازیوں نے احتجاج بھی کیا۔

واقعے کے بعد کوہاٹ شہر کے حالات سنگین ہوگئے تھے جس کے بعد انتظامیہ اور جمیعت علماء اسلام کے سرکردہ راہنماء گوہر سیف اللہ خان کی سربراہی میں دونوں مسالک کے عمائدین کے کئی جرگے بھی ہوئے اور حالات کو معمول پر لانے کی کامیاب کوششیں کی گئیں۔

حالات معمول پر آنے کے بعد رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی بھی انتظامیہ کی زیرنگرانی ایک جرگے میں شریک ہوئے مذکورہ جرگہ اسی ہفتے منعقد ہونے والے چہلم امام حسین کے حوالے سے بلایا گیا تھا۔ تاہم اس جرگے کی کوریج کے لیے سرکاری سطح پر میڈیا کے نمائندوں کو نہیں بلایا گیا تھا اور بعض افسروں اور سیاسی قائدین نے اپنی پسند کے سوشل میڈیا نمائندوں کو جرگے میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

ابھی تک یہ واضح نہ ہو سکا کہ اتنے اہم جرگے میں شرکت اور اس کی کوریج کے لیے کوہاٹ پریس کلب کو کیوں دعوت نہیں دی گئی تھی۔

ٹیگز

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close