کوہاٹ احتجاجی ریلی پر پولیس کی شیلنگ اور فائرنگ

کوہاٹ

کوہاٹ میں گزشتہ دنوں دو افراد قتل سے پیدا ہونے والی ریلی اور پولیس کے مابین عین اس وقت حالات کشیدہ ہوگئے جب اہلسنت والجماعت کے اہم راہنما حیدر وکیل آفریدی کی قیادت میں نکالی جانے والی ریلی کے شرکاء زبردستی پشاور چوک سے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کے رستے تحصیل کی طرف ریلی نکالنا چاہتے تھے

ریلی کے شرکاء کو پشاور چوک کے مقام پر پولیس نے روکنے کی کوشش کی کی مظاہرین کو کو روکنے  کے لیے پولیس نے مجبورا آنسو گیس کا استعمال کیا اور اور ہوائی فائرنگ بھی کی

جس کی وجہ سے مظاہرین منتشر ہوگئے گئے تاہم ہم متعدد پولیس اہلکاروں کی حالت بھی غیر ہو گئی گی ہے پولیس نفری کی قیادت ڈی ایس پی صنوبر خان اور ایس ایچ او فیاض خان  کر رہے تھے

اس دوران پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ گرلز ڈگری کالج روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بلاک کر دیا۔

یاد رہے کہ پندرہ ستمبر کو پشاور چوک میں ایک میڈیسن کی دوکان میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے ارتضا حسن اور سید میر حسن کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا

جس کے خلاف قتل کیے جانے والے افراد کے لواحقین نے پشاور چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جب کہ نامعلوم افراد نے کمیٹی چوک کے سامنے مسجد کے قریب فائرنگ کی جس کے خلاف نمازی اور کوہاٹ کے شہری مشتعل ہوگئے

https://www.facebook.com/283117542180477/posts/923284108163814/

 

اور اس سلسلے میں میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا کیا خیال رہے کہ اہل سنت والجماعت نے اس واقعے کے خلاف جمعہ کے روز ناموس صحابہ ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا لیکن کمشنر کوہاٹ کے دفتر میں ایک گرینڈ جرگے کے دوران ریلی ملتوی کر دی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ ہفتے کے روز جمیعت علماء اسلام کے سرکردہ رہنما اور سابق امیدوار برائے قومی اسمبلی گوہر سیف اللہ خان کے حجرے پر آل پارٹیز کانفرنس ہوگی جس میں شیعہ سنی عمائدین میں بھی شریک ہوں گے

ریلی ملتوی ہونے کے خلاف بعض لوگوں نے ردعمل کا اظہار بھی کیا اور اس پر اور اس بات پر زور دیتے رہے کہ یہ صحابہ ریلی ملتوی نہیں ہونی چاہیئے تھی۔

اس حوالے بھی تک کسی بھی سرکاری زمہ دار کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

کے بارے میں Web desk

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!