کوہاٹ: اہلسنت والجماعت نے جمعے کو نکالی جانے والی ریلی ملتوی کردی

کوہاٹ۔ کمشنر ہاؤس میں اہل سنت والجماعت اور انتظامیہ کا مشترکہ جرگہ منعقد ہوا 

جرگے میں ڈی آئی جی کوہاٹ ریجن طیب حفیظ چیمہ۔ کمشنر کوہاٹ سید عبدالجبار شاہ۔ ڈی پی او جاوید اقبال اور اہل سنت اور اہل تشیع کے مشران موجود تھے۔

جرگے میں علاقائی امن و امان کے پیش نظر اہلسنت والجماعت نے کل بروز جمعہ ہونے والی ریلی ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اہل سنت اور اہل تشیع مسالک کے مابین امن وامان کے حوالے سے جمعے کے روز سیٹھ گوہر سیف اللہ خان کے حجرہ محمد زئی میں گرینڈ جرگہ منعقد ہو گا۔

جرگے میں دونوں مسالک کے مابین کچھ دنوں سے پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور کی جائیں گی۔ جن کی وجہ سے کوہاٹ میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

شہر میں گزشتہ روز اہل تشیع کے دو افراد کے قتل کے واقعے کے بعد دونوں مسالک میں اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی طیب حفیظ چیمہ نے کہا ہے کہ کسی کو بھی امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ خبر بھی پڑھیں: کوہاٹ فائرنگ واقعہ، ڈویژن بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا اور ریجن بھر میں باہمی اخوت اور بھائی چارے کی جو مثالی فضاء قائم ہے اسے ہر حال میں قائم رکھا جائے گا۔

یاد رہے کہ ستمبر کی پندرہ تاریخ کو دوپہر کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے پشاور چوک کے قریب میڈیسن کی دکان میں دو افراد کو قتل کر دیا تھا۔

جس کے بعد لواحقین نے لاشیں پشاور چوک میں رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے۔

یہ خبر بھی پڑھیں:

اسی دوران بعض نامعلوم افراد نے کمیٹی چوک کے قریب ایک مسجد کے سامنے فائرنگ کر دی جس سے شہر بھر میں بھگدڑ مچ گئی اور دکانداروں نے شہر کی تمام دکانیں بند کردیں۔

نمازیوں اور دکانداروں نے مسجد کے سامنے فائرنگ کے خلاف کمیٹی چوک میں احتجاج کیا اور سڑک کو ٹریفک کے لیے بلاک کر دیا۔ مظاہرین دکانداروں اور نمازیوں کو تحفظ دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ کوہاٹ واقعے میں دو افراد کے قتل سے ایک دن قبل ہنگو کے علاقہ محمد خواجہ کے ایک رہائشی کو جوزارہ کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔

پولیس کے مطابق دونوں واقعات میں مقتولین کی کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں ہے اور ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرکے نامعلوم ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

ٹیگز

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close