کوہاٹ کشیدہ حالات، مقدمہ درج، دس افراد کو گرفتار کر لیا گیا

کوہاٹ پولیس نے پندرہ ستمبر دہرے قتل واقعہ اور اس کے بعد ہنگامہ آرائی اور بدامنی پھیلانے کے الزام میں تین افغان مہاجرین سمیت دونوں مسلکوں سے تعلق رکھنے والے دس افراد کو گرفتار کر لیا۔

ذرائع کے مطابق گرفتار کیے جانے والے افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ بہت جلد شرپسندوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔


پولیس ذرائع نے بتایا کہ جب پندرہ ستمبر کو پشاور چوک میں دکان کے اندر دو افراد ارتضیٰ حسن اور سید میر حسن جان کو قتل کیا گیا تو اس دوران مشتعل افراد نے پشاور چوک میں جمع ہو کر احتجاج کیا۔


احتجاج کے دوران بعض افراد نے کمیٹی مسجد کے سامنے گلی میں گھس کر زبردستی دکانیں بند کرنے اور توڑ پھوڑ کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کی جس سے بازار میں خوف و ہراس پھیل گیا اور پورے شہر کی دکانیں تاجروں نے بند کر دیں۔


جس کے خلاف دکانداروں نے کمیٹی چوک میں احتجاج کیا اور مسجد کے سامنے فائرنگ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا


واقعے کے اگلے روز اہلسنت والجماعت نے جمعے کے روز ناموس صحابہ ریلی نکالنے کا علان کیا تاہم انتظامیہ کی درخواست پر ایک جرگے میں ریلی ملتوی کرتے ہوئے ہفتے کے روز جمیعت علماء اسلام کے زیراہتمام سیٹھ گوہر سیف اللہ خان کے حجرے میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا۔


ریلی ملتوی کرنے کے خلاف اہلسنت والجماعت کے بعض کارکنوں نے پشاور چوک میں احتجاج کیا جس پر قابو پانے کے لیے پولیس کو مجبوراً آنسو گیس کی شیلنگ کرنا پڑی۔


پولیس کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں دس افراد کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے کارروائی کی گئی جن میں تین افغان مہاجرین سمیت چار افراد کا تعلق اہلسنت اور چھ کا تعلق اہل تشیع سے بتایا جاتا ہے۔ جن سے سنسنی خیز انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔

کے بارے میں Web desk

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!