کوہاٹ کی کشیدہ صورتحال، عمائدین اور سیاسی قائدین نے سر جوڑ لیے

کوہاٹ میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر ہفتے کے روز جمیعت علماء اسلام کے ضلعی راہنماء اور سابق ضلع ناظم گوہر سیف اللہ خان کے حجرے میں شیعہ سنی عمائدین کا گرینڈ جرگہ منعقد ہوا

گرینڈ جرگہ میں سیاسی جماعتوں اور دونوں مسالک کے عمائدین نے شرکت کی۔

جرگہ عمائدین نے خطاب میں کہا کہ علاقے کے امن کے لیے تمام تر اختلافات بالائے طاق رکھنا ہوں گے۔

مقررین نے حکومت مشینری پر بھی تنقید کی اور کہا کہع عواماور تاجروں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کا کام ہے لیکن حکومت اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہی۔

انہوں نے کہا کہ مساجد پر فائرنگ اور دکانداروں کوقتل کرنے کے پیچھے ایک ہی سوچ کار فرما ہے۔

جرگہ کے شرکاء نے گزشتہ دنوں دہرے قتل کے واقعے کو فرقہ واریت کا رنگ دینے کی مذمت کی ہے۔

شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کشیدگی کم کرنے کے لئے واقعے کے محرکات سامنے لائے جائیں۔

کیونکہ موجودہ حالات میں شر پسندوں نے شہر کا امن خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔

شرکاء نے یہ بھی کہا کہ حکومت سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ مواد پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہے جس سے علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات پھیلنے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

عمائدین نے الزام عائد کیا کہ علاقے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

ملزموں کی عدم گرفتاری مثالی پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

اور ہفتے کے روز سیٹھ گوہر سیف اللہ خان کے حجرے میں گرینڈ جرگے کا فیصلہ کیا گیا۔

ٹیگز

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close