کوہاٹ: مشتعل ریلی میں جاوید ابراہیم پراچہ مردہ باد کے نعرے کیوں لگے؟

کوہاٹ
کوہاٹ میں ناموس صحابہ ریلی پر پولیس اہلکاروں کی ہوائی فائرنگ کے بعد ریلی کے شرکاء مشتعل ہو گئے اور آنسو گیس پھینکے جانے کے باوجو دوبارہ پشاور چوک پر اکٹھے ہونا شروع ہوئے
پرامن ریلی کے شرکاء اچانک مشتعل ہوئے تو ریلی قائدین کی قابو سے باہر ہوگئے تاہم مفتی رضوان وہاں پہنچے اور بہت ہی احسن انداز میں ریلی کے مشتعل شرکاء کو روکنے اور انہیں تحمل کا مظاہرہ کرنے پر مجبور کر دیا جس کے بعد ریلی کے شرکاء کچہری چوک کی جانب ریلی پر رضامند ہوئے۔
جس کے بعد پولیس حکام اور ریلی شرکاء کے قائدین سے انتظامیہ مذاکرات کرنے میں کامیاب ہوئی اور کچہری چوک میں نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد جلوس کے شرکاء منتشر ہوگئے۔
اس موقع پر مفتی رضوان اور دیگر قائدین نے اپنے خظاب میں کہا کہ وہ صحابہ کرام اور امھات المؤمینین کے حوالے سے بری زبان استعمال کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے۔
انہوں نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ ریلی شرکاء کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں بنایا جائے گا اور اگر انتظامیہ اپنی زبان سے پھری تو پھر اس سے زیادہ جذبے کے ساتھ لوگ احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔
یاد رہے کہ کوہاٹ میں حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب پشاور چوک میں نامعلوم افراد نے ادویات کی دکان میں فائرنگ کرکے دو افراد ارتضٰی حسن اور سید میرحسن جان کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔
فائرنگ کے واقعے کے فوراً بعد نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر کمیٹی چوک میں واقع مسجد کے سامنے فائرنگ کر دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:

کوہاٹ احتجاجی ریلی پر پولیس کی شیلنگ اور فائرنگ

فائرنگ کے واقعے کے خلاف نمازی مشتعل ہوگئے اور کمیٹی چوک کے مقام پر سڑک کو بند کردیا تھا،
دوسری جانب مارے جانے والے افراد کے لواحقین اور دیگر افراد نے پشاور چوک کو ٹریفک کے لیے بلاک کر رکھا تھا جس کے بعد غلط فہمیاں بڑھنے لگیں اور جمیعت علماء اسلام نے حالات کی کشیدگی دیکھتے ہوئے ہفتے کے روز جے یو آئی کے سابق امیدوار برائے قومی اسمبلی گوہر سیف اللہ خان کے حجرے پر آل پارٹی کانفرنس بلا لی تھی جبکہ اہلسنت والجماعت نے جمعے کے روز ناموس صحابہ ریلی نکالنے کا اعلان کیا۔
تاہم کمیشنر ہاؤس میں سید عبدالجبار شاہ کی صدارت میں شیعہ سنی عمائدین اور انتظامی افسران کی موجودگی میں جرگہ منعقد ہوا جس میں جمعے کو نکالی جانے والی ریلی ملتوی کرنے کے اعلانات کیے گئے جسے اکثر مکاتب فکر نے سراہا اور کوہاٹ کے امن کے لیے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا تاہم سوشل میڈیا پر اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور آج کی ریلی میں بھی مشران غدارا اور جاوید ابراہیم پراچہ مردہ باد جیسے نعرے لگائے گئے ۔
ابھی تک جاوید ابراہیم پراچہ یا ریلی ملتوی کیے جانے کے فیصلے میں شریک اہلسنت عمائدین کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ جاوید ابراہیم پراچہ ایک بزرگ اور زیرک سیاستدان ہیں جوکہ اپنی سیاست بلکہ مذہبی معاملات میں قدامت پسندی کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔
تاہم اکثر اوقات حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سخت فیصلوں پر بھی رضامند ہو جاتے ہیں جس کے بعد انہیں بعض اوقات تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
تاہم اہلسنت والجماعت کی اکثریت ان کے فیصلوں کو بہ سر و چشم قبول کرتی بھی ہے۔

ٹیگز

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close