حریم فاطمہ قتل کیس، اصل کہانی کیا ہے؟ بے باک آواز کی سنسی خیز رپورٹ

کوہاٹ

کہانی یہ ہے کہ چوبیس مارچ کو عصر کے لگ بھگ تین سالہ حریم فاطمہ خٹک کالونی میں واقعے اپنے گھر سے نکلتی ہے۔

جب ماں کا دھیان جاتا ہے تو اپنی بیٹی کو ڈھونڈنے لگتی ہے اپنی ننھی گڑیا کو اپنے گھر کے اندر عدم موجود پاکر گھر والے تشویش کا شکار ہو جاتے ہیں۔

تلاش بسیار کے بعد جب حریم فاطمہ کا کوئی سراغ نہیں ملتا تو اس کے دادا فرہاد حسین خٹک تھانہ ریاض شہید کی حدود میں واقع ملز ایریا چوکی پہنچتے ہیں اور اپنی پوتی کی گمشدگی یا لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کراتے ہیں۔

پولیس رپورٹ درج کرتے ہوئے تفتیش میں مگن ہو جاتی ہے اور حریم کا دادا والد اور دیگر گھر والے ننھی بچی کی تلاش میں ایک بار پھر لگ جاتے ہیں، لیکن نتیجہ وہی، کہ حریم لاپتہ ہو گئی جس کا کوئی اتہ پتہ نہیں لگ پا رہا۔

سارے گھر والوں کی رات جاگتے، روتے، دعائیں مانگتے اور حریم فاطمہ کی راہ تکتے گزر گئی۔

حریم کے والد کے بیان کے مطابق صبح سویرے ایک بار پھر اپنی بیٹی کی تلاش میں نکلے تو انہیں کسی نے بتایا کہ لاری اڈہ کے قریب والے نالے میں کسی لڑکی لاش پڑی ہے کیوں نہ مسجد میں اعلان کرایا جائے تاکہ لڑکی کے لواحقین تک اطلاع دی پہنچائی جا سکے۔ ان لوگوں کو کیا معلوم تھا کہ جو شخص ان کے سامنے کھڑا ہے وہ وہی بدنصیب ہے جس کے جگر گوشے کی لاش گندے نالے میں پڑی ہے۔

اس کے والد نے ان لوگوں کو مسجد میں اعلان کرنے سے روک دیا اور دوڑتے دوڑتے اسی نالے پر جا پہنچے جس کا ذکر کچھ دیر قبل ان سے راہ گزرتے دو افراد نے کیا تھا۔

خٹک کالونی کے رہائشی نوید اقبال نے جب دیکھا کہ نالے میں پڑی لاش واقعی اس کی گڑیا کی ہے تو اس کے اوسان خطا ہوگئے اور اپنی بیٹی کی لاش کو باہوں میں اٹھاکر سیدھا گھر پہنچا۔

وہاں سے رشتہ داروں نے لاش کو لے کر چونگی نہر کے قریب یونیورسٹی روڈ کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بلاک کر دیا ۔

خبر اتنی دلخراش تھی کہ احتجاج میں پوری خٹک کالونی کے رہائشی شامل ہو گئے اور انتظامیہ اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔ اس طرح سڑک دو گھنٹے تک بلاک رہی۔

یہاں سے جب حریم فاطمہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے جایا گیا تو معلوم ہوا کہ جن لیڈی ڈاکٹرز کی ڈیوٹی لگی ہوئی ہے وہ تو تھوک کے حساب سے غیر حاضر ہیں۔

اس طرح درندوں کے ہاتھوں نوچی گئی ننھی گڑیا کے پوسٹ مارٹم کے لیے بھی لواحقین کو ہسپتال کے سامنے احتجاج کرنا پڑا۔

احتجاج کے بعد لڑکی کا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور بے باک آوازکو پوسٹ مارٹم رپورٹ کی جو کاپی ملی ہے اس کے مطابق بچی جنسی زیادتی کا شکار ہوئی ہے اور بعد میں اس کا گلہ دبا کر اسے قتل کیا گیا۔

شاید اپنے چہرے پر لگائی گئی کالک کو چھپانے کے بعد ملزم نے بچی کو قتل کیا اور پھر اس کی لاش قریبی نالے میں پھینک دی۔

چھبیس مارچ کو حریم فاطمہ کی تدفین ان کے آبائی ضلع کرک میں کر دی گئی موقع پر ہر شخص رنجیدہ دکھائی دیا اور رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے

ڈاکٹروں کی غفلت اور انتظٓامیہ کا ایکشن:

جب ڈاکٹروں کی غفلت اور غیر حاضری پر بچی کے لواحقین نے احتجاج کیا تو ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ عبدالرحمان اور ڈی پی او سہیل خالد فوراْ ہسپتال پہنچے ڈاکٹروں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بلایا گیا اور غفلت کی مرتکب تین ڈاکٹرز کو ڈیوٹی سے معطل کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا۔

پولیس کا موقف:

اس سلسلے میں واقعے کے ہی روز ریجنل پولیس آفیسر طیب حفیظ چیمہ نے ہسپتال کا دورہ کیا اور وہاں پر موجود عمائدن اور بچی کے لواحقین کو بتایا کہ ملزمان کو ایسی عبرتناک سزا دیں گے کہ یہ کوہاٹ میں اپنی نوعیت کا پہلا اور آخری واقعہ ہوگا۔

ڈی پی او سہیل خالد کے دفتر سے جمعے کے روز جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ کوہاٹ بھر کی سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور ملزمان بہت جلد قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔

پولیس کے ترجمان نے بے باک آواز کو اس سلسلے میں بتایا ہے کہ جائے وقوعہ سے کچھ شواہد لے لیے گئے جو کہ فرانزک لیب کو بھجوا دیئے گئے ہیں۔

چالیس سے زیادہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا اور پولیس کی کارروائیاں تا حال جاری ہیں۔

ساٹھ سے زیادہ افراد کے ڈی این اے نمونے لے لیے گئے ہیں اور چار سو سے زیادہ افراد کے نمونے لیے جانے کا امکان ہے،

پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہیں اور قوی امکان ہے کہ بہت جلد ملزمان پولیس کے قبضے میں ہوں گے۔

عوام کا رد عمل:

واقعے کے بعد لوگوں میں شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے سوشل میڈیا پر حریم فاطمہ کے لیے انصاف (#justiceforhareemfatima)کے ہیش ٹیگ کے ساتھ مہم جاری ہے.

واقعے کے بعد انتظامیہ اور حکومت کو بھی شدیدی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ضلع کرک کے علمائے کرام، تاجر تنظیموں اور سماجی تنظیموں نے بھی دھمکی دی ہے کہ ملزمان کو تین دن کے اندر اندر گرفتار کیا جائے ورنہ ایسا احتجاج کریں گے کہ تاریخ یاد رکھے گی۔

عوامی نمائندے کیا کہتے ہیں:

اس حوالے سے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار آفریدی نے کرک میں حریم فاطمہ کے والد اور دیگر لواحقین سے ملنے گئے ان سے تعزیت کی اور یقین دلایا کہ ملزمان کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے والدین سے بھی درخواست کی کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے لیے وزیراعلیٰ کے مشیر ضیااللہ بنگش کا کہنا ہے کہ واقعہ افسوسناک ہے صوبائی حکومت کی جانب سے محکمہ پولیس کو ملزمان کی جلد گرفتاری کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

#BebaakAwaz #JusticeforHareemFatima #Justice4Hareem #JusticeforHarimFatima #latesturdunews

کے بارے میں Web desk

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!