اینکر صحافی لڑائی: ٹوئیٹر میدان جنگ

بےباک سوشل میڈیا رپورٹ
اسلام آباد کےسینئر صحافیوں نے سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف مورچہ سنبھال لئیے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ٹوئیٹر پر براہ راست لڑائی جاری ہے۔ معروف اینکر اور مصنف رؤف کلاسرا اور سینیئر تحقیاتی رپورٹر اعزاز سید نے براہ راست ایک دوسرے پر وار کیا۔ اس جنگ میں باقی بڑے صحافی بھی کود پڑے۔


بظاہر لگتاہے کہ لڑائی کا آغاز اعزاز سید کی اس ٹوئیٹ سے ہوا جس میں انہوں نے رؤف کلاسرا پر تنقید کی کہ اس نے عاصم سلیم باجوہ پر اب تک لب کشائی نہیں کی۔ اس کے جواب میں نہ صرف رؤف کلاسرا نے یہ کہا کہ وہ کر چکے ہیں بلکہ ٹویٹ کیا کہ اعزاز سید کو انہی کے ریفرنس پر ڈان نیوز میں نوکری ملی اور کہا کہ ارشد شریف نے اعزاز سید کو ایک سڑک چھاپ سے تشبیہہ دی تاہم انہوں نے ارشد شریف کو کہا کہ اگر ایک بے روزگار کو نوکری ملتی ہے تو اچھی بات ہے۔ اس کے بعد اس جنگ میں معروف اینکر مبشر زیدی، نسیم زہرہ، ابصار عالم، ماروی سرمد، عمر چیمہ، خود احمد نورانی (جس نے عاصم باجوہ پر اثاثیں بنانے کا الزام لگایا)، ارشد وحید چودھری، مطیع اللہ جان اور کئی دیگر بھی کود پڑے۔ رؤف کلاسرا نے ایک ایک ٹویٹ کے ذریعہ ان میں سے کئی کو جواب بھی دئیے۔ معروف صحافی ڈان نیوز کے اینکر مبشر زیدی کو یہاں تک کہا کہ عدالت نے اسے جھوٹا قرار دے دیا ہے جس مقدمہ میں انہوں نے رؤف کلاسرا پر الزام لگایا اور اب وہ مبشر زیدی سے ہتک عزت کا دعوی جیت کر جرمانہ وصول کریں گے۔ احمد نورانی کو یاد دلاتے ہوئے اسے نواز شریف جے آئی ٹی کی رپورٹنگ پر آڑے ہاتھوں لیا۔
آخری اطلاعات آنے تک کسی بھی جانب سے معافی تلافی کی ٹویٹ نہیں آئی البتہ اعزاز سید کے دفاع میں کئ صحافی ٹویٹ کر رہے ہیں۔
بڑے صحافیوں کی اس لڑائی پر عام صارفین کی جانب سے صحافیوں کے رویوں اور بیانات پر تنقید کی جا رہی ہے۔
اس سارے سلسلہ میں احمد نورانی کی سٹوری پس منظر میں چلی گئی اور خود تنازعات کا شکار ہو چکی ہے۔

ٹیگز

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close