لاک ڈاؤن مرحلہ وار کھولنے کا اعلان، عوام ساتھ دے۔عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے پر اتفاق نہیں ہوا کیونکہ صوبوں کو اس حوالے سے خدشات ہیں، تاہم وہ خود ایس او پیز کے ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کے حامی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘وفاقی حکومت نے صوبوں کے ساتھ مشاورت سے فیصلے کیے ہیں۔ اگلے مرحلے میں کامیابی عوام کے تعاون سے مشروط ہے۔ مشکل وقت سے نکلنے کے لیے عوام کو حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ سماجی فاصلے سے اس وبا کا پھیلاؤ کم ہو جاتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ‘سوا لاکھ پاکستانی بیرون ملک پھنسے ہیں، بیرونی ممالک سے آنے والوں کو خود قرنطینہ مراکز میں چلے جانا چاہیے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان میں یورپ اور امریکہ کی نسبت صورت حال بہت بہتر ہے۔ ہمارے ملک میں ان ممالک کی نسبت اموات کی تعداد بھی کم ہے۔’

‘لاک ڈاؤن کھولنے کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کب بیماری ختم ہو گی یا انتہا پر چلی جائے اس لیے سب کو احتیاط کرنا ہو گی۔’

عمران خان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ‘لاک ڈاؤن کے پہلے ہی روز اس بات کا خوف تھا کہ اس سے سب سے زیادہ دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہو گا۔’

‘اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے احساس پروگرام کے تحت پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا امدادی پیکج مستحقین میں تقسیم کیا۔

ٹیگز

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close