حریم فاطمہ قتل کیس، خواتین بھی شامل تفتیش، کیا قاتل خاتون ہو سکتی ہے؟

کوہاٹ

کوہاٹ میں تین سالہ حریم فاطمہ کے قتل کیس سنسی خیز مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ پولیس نے درجنوں مردوں کے بعد خواتین کو بھی تفتیش کے دائرے میں شامل کر لیا ہے۔

ایک دن قبل حریم فاطمہ کے پڑوس سے خاتون کو حراست میں لیے جانے کے بعد دو مزید خواتین اور ایک مرد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

بے باک آواز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آج حراست میں لیے جانے والی خواتین اور مرد آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں اور ان کا حریم فاطمہ کے خاندان کے ساتھ بھی رشتہ رہ چکا ہے۔

پولیس نے خواتین کو شامل تفتیش کرنے کا قدم اس وقت اٹھایا ہے جب سی سی ٹی وی کی ایک فوٹیج میں حریم فاطمہ کو ایک برقع پوش خاتون کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

اور اگلے ہی سین میں اسی برقع پوش خاتون کو اکیلے بھاگتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حریم فاطمہ قتل کیس، اصل کہانی کیا ہے

ہمارے ذرائع کے مطابق کل حراست میں لیے جانے والی خاتون طلاق یافتہ ہے اور حریم فاطمہ کے دادا کے گھر کے قریب واقع اپنے والدین کے گھر میں رہ رہی ہے۔

حریم فاطمہ واقعہ کیا ہے؟

چوبیس مارچ کو علاقہ خٹک کالونی میں تین سالہ حریم فاطمہ اچانک اپنے گھر سے لاپتہ ہوگئی تھی جس کی رپورٹ تھانہ ریاض شہید میں حریم کے دادا فرہاد حسین کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کرائی گئی

لیکن اگلے ہی روز صبح نیا لاری اڈہ کے قریب واقع ایک نالے سے برآمد ہوئی واقعے کے خلاف اہلیان علاقہ نے چونگی نہر کے قریب احتجاجی مظاہرہ کیا اور روڈ کو ٹریفک کے لیے دو گھنٹے تک بلاک کیے رکھا

رشتہ داروں کا ہسپتال میں احتجاج!

جب اسی روز یعنی پچیس مارچ کو حریم فاطمہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال لے جائی گئی تو وہاں متعلقہ لیڈی ڈاکٹر موجود نہ ہونے کی وجہ سے مقتولہ کے رشتہ داروں نے احتجاج کیا اور پھر دو گھنٹے انتظار کے بعد حریم فاطمہ کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔

رکن صوبائی اسمبلی اور سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے وزیراعلیٰ کے مشیر ضیااللہ بنگش نے بے باک آواز کو دو دن قبل بتایا کہ فرائض میں ٖغفلت برتنے پر تین لیڈی ڈاکٹروں کو معطل کیا گیا ہے تاہم کشمیر کمیٹی کے چیئرمیں شہریار آفریدی نے سزا پانے والے ڈاکٹرز کی تعداد دو بتائی ہے۔

عوامی رد عمل

واقعے کے بعد عوام میں شدید ردعمل دیکھنے کو ملا ہے اس سلسلے میں کرک، کوہاٹ اور پشاور میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔

خٹک کالونی میں دونوں اضلاع کے عمائدین کے ایک جرگے میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملزمان کے بے نقاب ہونے کے بعد انہیں کرک اور کوہاٹ سے ضلع بدر کیا جائے گا۔

مذکورہ جرگہ پاکستان راہ حق پارٹی کے صوبائی صدر مولانا عبیداللہ حیدری کی رہائش گاہ پر منعقد کیا گیا تھا۔

جرگے میں حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ٹیگز

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close