کوہاٹ کے کسی علاقے سے لاشیں برآمد نہیں ہوئیں۔ خبر کچھ اور ہے!

کوہاٹ

پشاور کے قبائلی علاقے پستہ ونی سے اغوا اور بعد ازاں قتل کیے جانے والے کان کنوں کی باقیات تقریباْ نو سال بعد اپنے آبائی علاقوں کو منتقل کر دی گئیں

ستمبر سال دوہزار گیارہ میں ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کو پشاور اور کوہاٹ کے سابق قبائلی علاقوں کے سنگم پر واقع علاقہ حسن خیل سے اغوا کیا گیا تھا۔

مذکورہ علاقے تک چونکہ براستہ کوہاٹ رسائی آسان ہے اس لیے باقیات پہلے علاقہ جموں منتقل کی گئیں اور اس کے بعد ریسکیو 1122 کے ایمبولنسوں کے ذریعے ضلع شانگلہ پہنچا دیا گیا۔

علاقہ جموں سے تعلق رکھنے والے قومی امن لشکر کے ایک اہم راہنما صابر نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ یہ قبریں سال دو ہزار بارہ میں سیکورٹی فورسز اور مقامی لشکر کی ایک کارروائی کے دوران مل گئی تھیں جس کی خبر انہی دنوں میڈیا کو دے دی گئی تھی۔

بعد ازاں مارے جانے والے کان کنوں کے لواحقین کو بھی ان قبروں کا علم ہو چکا تھا اور انہوں نے لاشوں کی شناخت ان کی پہنی ہوئی مختلف اشیا سے کر لی تھی۔

ذرائع کے مطابق لاشوں کی شناخت کے بعد کان کنوں کے لواحقین اور کان کنوں کی ایک تنظیم نے لاشیں اپنے آبائی علاقوں کو منتقل کرنے کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا اور حکومت کو باقیات کی منتقلی میں مدد کے لیے درخواست دی۔

اس سلسلے میں کان کنوں کی تنظیموں اور لواحقین کے مختلف وفود نے صوبائی وزرا اور اعلیٰ انتظامی افسران کے ساتھ بار بار ملاقاتیں بھی کیں۔

موقع پر شانگلہ سے آئے ہوئے عمائدین اور لواحقین مزدوروں کی باقیات کی منتقلی میں تعاون کرنے پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کا شکریہ بھی ادا کر رہے تھے۔

سولہ لاشیں اور میڈیا

باقیات کی منتقلی کے عمل کی خبر کو میڈیا نے بھی انتہائی سنسی خیز انداز میں پیش کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے یہ لاشیں نو سال بعد ابھی کسی اجتماعی قبر سے ملی ہوں

جب بے باک آواز نے حقائق جاننے کے لیے کوہاٹ کے ایک اعلیٰ انتظامی افسر کے ساتھ رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ کہ یہ سب کچھ صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں ہو رہا ہے کیوں کہ مارے جانے والے کان کنوں کے لواحقین نے بہت پہلے صوبائی حکومت کو لاشوں کی منتقلی کے لیے درخواست دے رکھی تھی۔

 

کے بارے میں Web desk

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!