چترال میں خواتین روڈ کی تعمیر کے لیے اپنا زیور بیچیں گی

ضلع اپر چترال کے تحصیل مستوج کے سینکڑوں عوام نے پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل ولی کے قیادت میں مستو ج کا تیس کلومیٹر سڑک اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کرنا شروع کیا ہے

اس سے قبل مستوج پل کے قریب ایک محتصر تقریب ہوئی جس میں پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل نے کہا کہ چونکہ اس پورے اپر چترال کے ضلع میں ایک کلومیٹر سڑک بھی پحتہ نہیں ہے جس سے نوجوان طبقے میں مایوسی اور بغاوت کا لاوہ ابلنے کا حدشہ تھا اسلئے میں چاہتا ہوں کہ ان مایوس نوجوانوں کی جذبات کو مثبت کام کی طرف راغب کروں تاکہ یہاں بلوچستان اور بنگلہ دیش جیسے حالات پیدا نہ ہوں

مستوج کے سینکڑوں اپنے کودال، بیلچے، ٹریکٹر، ٹرالی اور دیگر سامان لے کر سڑک کی جانب جلوس کی شکل میں روانہ ہوئے۔

ان رضاکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس تیس کلومیٹر سڑک کی مرمت اور تعمیر خود شروع کیا۔


ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے پروفیسر اسماعیل نے کہا کہ ہم حکومت کی ریڈ کو چیلنج نہیں کرتے اور نہ ہی ہم حکومت کے حلاف کوئی بغاوت کرتے ہیں بلکہ ہمارا موقف یہ ہے کہ پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے اور اب پاکستان کے معاشی حالات کمزور ہیں اسلئے ہم حکومت کے ساتھ مدد کرنا چاہتے ہیں۔

پہلے مرحلے میں اس سڑک کی مرمت ہو گی اور اس کے بعد اس پر تارکول ڈال کر اسے پحتہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک انہوں نے کسی سے چندہ نہیں مانگا تاہم اگر کوئی اپنی مرضی سے کچھ دینا چاہے تو ان کا خیر مقدم کیا جائے گا۔


سابق تحصیل ناظم شہزادہ سکندر الملک نے کہا کہ پچیس سال پہلے اس سڑک کو ہم نے خود بنایا تھا اور ہم حکومتی اداروں کو چشم براہ تھے کہ شائد وہ آکر ہماری مدد کرے گی لیکن پچھلے بیس سالوں میں کسی بھی حکومت نے بھی اس سڑک پر توجہ نہیں دی

اسی لیے علاقے کے لوگ مجبور ہوکر اپنی مدد آپ کے تحت یہ سڑک بنارہے ہیں اور اس کو بنی گالہ تک پہنچاکر وزیر اعظم عمران خان کو بلائیں گے کہ آئیں اور اس سڑک کا افتتاح کریں۔


حاصل مراد ایک سماجی کارکن ہیں ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے بیس پچیس سالوں سے اس سڑک پر توجہ نہیں دی گئی جس کے باعث سڑک میں جگہ جگہ گڑھے پڑ گئے ہیں اور کئی گاڑیاں گہری کھائی میں گر کر حادثات کا شکار ہوئی ہیں جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔

پروفیسر اسماعیل کا کہنا ہے کہ سیاحت کے تمام مقامات تحصیل مستوج میں موجود ہیں اس خطے میں شندور، بروغل جیسے خوبصورت وادیاں واقع ہیں جہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں مگر وہ کئی مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ علاقے کے لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی مدد آپ کے تحت اس سڑک کو بنائے۔
انہوں نے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر کیلئے کئی لوگوں نے اپنی پوری تنخواہ، اور پنشن یافتہ لوگوں نے دو ماہ کی پنشن، خواتین نے اپنے زیورات بیچ کر اس میں چندہ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ سڑک کی تعمیر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ڈونر کانفرنس بلانے کا فیصلہ بھی کر چکے ہیں۔


اس علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک سماجی خاتون سائمہ ایوب نے کہا کہ بونی سے آگے ایک کلومیٹر سڑک بھی پحتہ نہیں ہوا ہے۔ اس تنگ اور حطرناک سڑک پر گزرتے ہوئے کئی حادثات پیش آچکے ہیں اور خاص کر خواتین کو بیماری کے دوران ہسپتال تک پہنچانے میں کافی دشواری کا سامنا رہتا ہے خصوصی طور پر زچگی کے دوران ان خواتین کو اس سڑک پر ہسپتال پہنچانا ایسی خواتین کی زندگی کے لیے خطرے سے خالی نہیں۔
بسمہ عزیز ایک کالج کی طالبہ ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ جب اس سڑک پر کالج جاتی ہیں تو بہت ڈر لگتا ہے کیونکہ اس دوران وہ کئی جان لیوا حادثات دیکھ چکی ہیں اور سواریوں سے بھری گاڑیاں گہری کھائی اور دریا میں گرنے جیسے خوفناک مناظر کا نظارہ کر چکی ہیں۔

انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں اور مخٰیر حضرات سے بھی پرزور اپیل کی ہے کہ اس سڑک کی تعمیر میں ان کے ساتھ مدد کی جائے یا حکومتی ادارے سی اینڈ ڈبلیو یا این ایچ اے آکر اس کی تعمیر خود کریں،

گل حماد فاروقی

گل حماد فاروقی چترال اور ملحقہ علاقوں سے بے باک آواز کے ساتھ خبر نگار ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close