حریم فاطمہ قتل کیس کا ڈراپ سین، ملزمہ پکڑی گئی

کوہاٹ پولیس نے حریم فاطمہ قتل کیس کا سراغ لگاتے ہوئے ملزمہ کو گرفتار کر لیا ہے ملزم نے دوران تفتیش اعتراف جرم کر لیا ہے

اس حوالے سے پولیس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی پی او سہیل خالد نے کہا کہ ملزمہ قتل کی جانے والی بچی کے چچا سے شادی کرنا چاہتی تھی لیکن حریم کا والد اس میں رکاوٹ بن گیا۔

ملزمہ نے حریم فاطمہ کو اسی وجہ سے قتل کیا ہے کہ وہ اپنی محبت کی راہ میں رکاوٹ بننے والے حریم کے والد سے انتقام لینا چاہتی تھی۔

ڈی پی او کے مطابق خاتون ملزمہ طلاق یافتہ اور نفسیاتی مریضہ ہے
ملزمہ کا حریم کے گھر آنا جانا رہتا تھا بچی کو لے جانے کے لیے ملزمہ نے دو رکشے تبدیل کیے

ایک سوال کے جواب میں سہیل خالد نے کہا کہ بچی کا ریپ ہوا ہے یا نہیں، اس کے لیے بورڈ بنائیں گے
ہو سکتا ہے حقائق تک پہنچنے کے لیے بچی کی قبر کشائی کی جائے

ڈی پی او کے ایک جواب نے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے جب انہوں نے کہا کہ لاش ملنے کے بعد گھر میں بچی کے کپڑے تبدیل کیے گیے

مزید تفتیش جاری ہے حقائق سامنے لائیں گے
انہوں نے کہا کہ ملزمہ کی گرفتاری کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیوز سے کافی حد تک مدد لی گئی ہے

کے بارے میں ممتاز بنگش

بے باک آواز کے مدیر اعلیٰ ہیں کوہاٹ سمیت قبائلی اضلاع سے متعدد قومی اور بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!