امریکہ نے مچھروں کی فوج تیار کرلی

بےباک ماحولیاتی ڈیسک

اس منصوبے کا مقصد ان مچھروں کی تعداد کو کم کرنا ہے جو ڈینگی یا زیکا وائرس جیسی بیماریاں پھیلاتے ہیں

امریکی ریاست فلوریڈا میں مقامی عہدیداروں نے 75 کروڑ مچھر چھوڑنے جانے کی منظوری دی ہے جنھیں مچھروں کی مقامی آبادی کم کرنے کے لیے جینیاتی طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔

اس منصوبے کا مقصد ان مچھروں کی تعداد کو کم کرنا ہے جو ڈینگی یا زیکا وائرس جیسی بیماریاں پھیلاتے ہیں۔

کئی سالوں کے بحث و مباحثے کے بعد منظور ہونے والے اس پائلٹ پروجیکٹ کو ماحولیاتی گروہوں کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔

ایک گروپ نے اس منصوبے کو ’جراسک پارک تجربہ جیسا‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

ماحولیاتی کارکنوں نے ایکو سسٹم کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان اور ہائبرڈ، کیڑے مار ادوایات سے بچ جانے والے مچھروں کی پیدائش سے متعلق خبردار کیا ہے۔

لیکن اس منصوبے میں شامل کمپنی کا کہنا ہے کہ انسانوں یا ماحول پر اس کے کوئی مضر اثرات مرتب نہیں ہوں گے، اور سلسلے میں وہ حکومت کی حمایت یافتہ کئی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہیں۔

2021 میں فلوریڈا کیز کے جزیروں میں مچھروں کو چھوڑنے کا یہ منصوبہ وفاقی ریگولیٹرز کی منظوری کے مہینوں بعد سامنے آیا ہے۔

مئی میں، امریکی ماحولیاتی ایجنسی نے امریکہ سے چلائی جانے والی برطانوی کمپنی آکسیٹیک کو جینیاتی طور پر انجنیئرڈ، نر ایڈیس ایجیپیٹی مچھر پیدا کرنے کی اجازت دی، جنھیں او ایکس 5034 کا نام دیا جاتا ہے۔

ایڈیس ایجپٹی مچھر انسانوں میں ڈینگی، زیکا، چکنگنیا اور پیلے بخار جیسی مہلک بیماریاں پھیلاتے ہیں۔

برازیل میں ایک ماہر حیاتیات زیکا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے مچھر چھوڑ رہے ہیں۔

صرف مادہ مچھر ہی انسانوں کو کاٹتے ہیں کیونکہ انھیں انڈے بنانے کے لیے خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا منصوبہ یہ ہے کہ نر، تبدیل شدہ مچھروں کو چھوڑا جائے۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ نر مچھر جنگلی مادہ مچھروں سے مل کر افزائشِ نسل کریں گے۔

تاہم نر مچھروں میں ایک خاص پروٹین پائی جاتی ہے جو کاٹنے کی عمر میں پہنچنے سے پہلے ہی کسی بھی مادہ کی نسل کو ختم کردے گی۔ صرف وہی نر زندہ رہیں گے، جو آبِ حیات پر پلتے ہیں اور انھی کی نسل آگے بڑھے گی۔

اس منصوبے کا مقصد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ علاقے میں ایڈیس ایجیپٹی مچھروں کی آبادی کو کم کرتے ہوئے انسانوں میں بیماری کے پھیلاؤمیں کمی لانا ہے۔

کچھ عرصہ قبل فلوریڈا کیز مچھر کنٹرول ڈسٹرکٹ (ایف کے ایم سی ڈی) کے عہدیداروں نے دو سال کے عرصے میں75 کروڑ مچھروں کو چھوڑنے کی حتمی منظوری دی۔

اس منصوبے کے بے شمار مخالفین ہیں۔ تقریباً 240،000 افراد نے چینج ڈاٹ او آر جی پر ایک درخواست پر دستخط کیے جس میں ان متغیر حشرات کی ٹیسٹنگ کے لیے امریکی ریاستوں کو استعمال کرنے پر آکسیٹیک پر تنقید کی گئی ہے۔

آکسیٹیک کی ویب سائٹ کے مطابق، کمپنی کو برازیل میں فیلڈ ٹرائلز کے مثبت نتائج ملے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، یہ کمپنی 2021 سے ٹیکساس میں بھی اس منصوبے کو شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس کے لیے انھیں وفاقی حکومت کی منظوری بھی مل گئی ہے، لیکن سرکاری یا مقامی منظوری حاصل نہیں ہو سکی۔

اس منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے ماحولیاتی گروپ فرینڈز آف دی ارتھ نے ایک بیان میں کہا ہے: ’کورونا وائرس کی وبا کے دوران جینیاتی طور پر انجنیئرز مچھروں کے چھوڑے جانے سے فلوریڈا کے رہائشیوں، ماحولیات اور معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کو مزید خطرہ لاحق ہوجائے گا۔‘

لیکن آکسیٹیک کے ایک سائنس دان نے اے پی نیوز ایجنسی کو بتایا: ’ہم نے گذشتہ برسوں میں اربوں سے زیادہ مچھر چھوڑے ہیں۔ ماحول یا انسانوں کو خطرہ لاحق ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘

جنوبی فلوریڈا میں ایڈیس ایجیپٹی مچھروں کی بہتات ہے، اور یہ عام طور پر ان شہری علاقوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں جہاں تالاب موجود ہیں۔ فلوریڈا کیز سمیت بہت سے علاقوں میں، ان مچھروں نے کیڑے مار ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر لی ہے

ٹیگز

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!
Close