کوہاٹ۔ تیل و گیس کمپنیوں سے اہم تفصیلات طلب

کوہاٹ
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کی سب کمیٹی کا اہم اجلاس کمشنر کوہاٹ کے دفتر میں کنوينينر سینیٹر حاجی شمیم آفریدی کی سربراہی میں منعقد ہوا
منعقدہ اجلاس میں سب کمیٹی کےکمیٹی کے دیگر اراکین سینیٹر بہرہ مند تنگی اور سینیٹر تاج آفریدی سمیت مول او جی ڈی سی ایل اور کوہاٹ میں کام کرنے والی دیگر گیس کمپنیوں کے عہدے داروں نے شرکت کی اجلاس میں تیل و گیس کمپنیوں کے عہدیداروں سے آئل اینڈ گیس فیلڈ میں کام کرنے والے ملازمین کی تفصیلات طلب کی گئیں کمیٹی نے اس وقت برہمی کا اظہار کیا جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان ملازمین میں مقامی لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جبکہ پیشہ ور اور غیر پشاور ملازمین کو خیبر پختونخوا تیل و گیس کے پیداواری اضلاع کے بجائے پنجاب کے مختلف علاقوں سے لایا گیا ہے کمیٹی نے ان کمپنیوں سے عوام کی فلاح و بہبود خصوصی طور پر پینے کے صاف پانی، تعلیم اور صحت کے منصوبوں پر خرچ کی جانے والی رقم کی تفصیلات بھی طلب کیں جس پر مذکورہ حکام کمیٹی کو مطمئن نہ کر سکے اجلاس میں کمیٹی نے تسلی بخش جواب کے لئے مذکورہ کمپنیوں کے عہدیداروں کو ایک ہفتے کا وقت دیا اور ایک ہفتے کے اندر اندر کمیٹی کو تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر شمیم آفریدی سینیٹر بہرمند تنگی اور سینیٹر تاج محمد آفریدی نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ تیل اور گیس فیلڈ میں 80% مقامی لوگوں کا حق ہے لیکن گزشتہ کئی سالوں سے یہ لوگ اپنے حق سے محروم ہیں اور ان کی جگہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ کام کر رہے ہیں شمیم آفریدی نے کہا کہ یہ کمیٹی 3 مہینے قبل تشکیل دی گئی لیکن موجودہ حکومت اور منتخب عوامی نمائندے ان کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں تاہم وہ کسی کی کو خاطر میں لائے بغیر اپنے علاقے کی عوام کو ان کا حق دلانے کے لئے کوشاں رہیں گے کمیٹی کا اجلاس اسی مقام پر آئندہ پیر کو ہوگا جس میں ریل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی کو طلب کی گئی تفصیلات فراہم کرنےکی ہدایت کی گئی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں