گومل یونیورسٹی میں اساتذہ کی ہڑتال آٹھویں روز بھی جاری

ڈیرہ اسماعیل خان
گومل یونیورسٹی میں گواسا کی کال پر اساتذہ کی ہڑتال آٹھویں روز بھی جاری رہی یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں ٹھپ ہوگئیں جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے متعدد شعبہ کے سربراہان کو انکے عہدوں سے سبکدوش کردیا جس پر گواسا نے شدید مزمت کا اظہار کیا ہے ایکڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کے راہنماؤں صدر محمد شعیب ۔ جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شاہد کمال ٹیپو اور دیگر راہنماؤں نے کہا کہ گومل یونیورسٹی میں وائس چانسلر ڈاکٹر سرور۔ قائم مقام رجسٹرار دل نواذ کی کرپشن۔ تعلیم دشمن اقدامات۔ درجہ سوم اور چہارم کے ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے کے اقدامات کے خلاف ہم سراپا احتجاج ہیں انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ مسائل حل کرنے کے بجائے حالات کو انتہائی درجہ پر کشیدہ بنانے میں کوشاں ہے جس کا واضح ثبوت انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل سائنسز کے چیئرمین سینئر موسٹ پروفیسر ڈاکٹر عظیم خٹک کو انکے عہدے سے ہٹا کر انکے شعبہ کی نگرانی ان سے جونیئر اور بائیولوجیکل سائنسز کے چیئرمین ڈین آف سائنس ڈاکٹر حلیم شاہ کو دے دی اسی طرح شعبہ صحافت کے چیئرمین ڈاکٹر وسیم اکبر شیخ کوشعبہ کی سربراہی سے ہٹا کر شعبہ اسلامیات کے چیئرمین ڈاکٹر صلاح الدین کو شعبہ صحافت کی نگرانی دینا وائس چانسلر اور اسکی ٹیم کا انتہائی مضحکہ خیز فیصلہ ہے جبکہ شعبہ کمپیوٹر سائنس کے سربراہ جمال ناصر کو ہٹا کر فیکلٹی آف انجینئرنگ کے انجنیئر اقبال ذیب خٹک کو کمپیوٹر کے شعبہ کا نگران سربراہ بنانا اس بات کی عکاسی ہے کہ گومل یونیورسٹی کی کرپٹ انتظامیہ بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اساتزہ کو باہم لڑانے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہے مگر ہم تعلیم دشمن علاقہ دشمن وائس چانسلر ڈاکٹر سرور۔ رجسٹرار دل نواز کی کرپشن اور زیادتیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے آٹھویں روز کی ہڑتال سے یونیورسٹی کا تعلیمی نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر سرور اور رجسٹرار دل نواذ کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ انہوں نے ادارہ میں ملازمین کا معاشی قتل کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان۔ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار ہماری داد رسی کریں گو اسا کی کال پر سٹی کیمپس اور مین کیمپس کے تمام شعبہ جات میں ریگولر اساتذہ نے کلا سوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور کسی قسم کی کلاس نہیں لی گواسا کے راہنماؤں نے متعدد شعبہ جات کادورہ کیا اور یونیورسٹی انتظامیہ کی کرپشن تعلیم دشمن پالیسیوں کے خلاف سٹینڈ لینے پر اساتزہ اور دیگر ملازمین کو خراج تحسین پیش کیا اساتذہ راہنماؤں کا یہ کہنا ہے کہ گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سرور رجسٹرار دل نواز بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث ہیں پرامن احتجاج پر ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جارہا ہے گریڈ ایک سے سولہ تک غیر قانونی بھرتیاں کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ ہمارا آج بھی یہی مطالبہ ہے آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ ۔ چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار یونیورسٹی کی تباہی کا نوٹس لیں اور ادارہ کو بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی مطالبہ کیا نکالے گئے درجہ چہارم اور سوم کے غریب ملازمین کو فوری طور پر بحال کیا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں