گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے، ٹی ایم اے کوہاٹ کی کہانی

نجی سبزی منڈی کو عدالتی حکم کے باوجود تالے نہ لگائے جاسکے،ملازمین کے گھروںمیں فاقو ں تک نوبت پہنچ چکی ہے، مجبور ہوگئے کہ احتجاج کا راستہ اختیار کریں، ملازمین

موجودہ ٹی ایم اے امین گل کی غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن تباہ حالی کا شکار ہے، سرکاری سبزی منڈی میں کروڑوں روپے ڈوب گئے، عدالتی حکم کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا گیا
دوران ملازمت انتقال کرنے والے دو ملازمین کے بچے ایک سال سے بقایاجات کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کے بقایاجات ڈیڑھ کروڑ سے تجاوز کر چکے ہیں
بجلی لوڈ شیڈنگ کے دوران دفاتر میں کوئی متبادل انتظام نہیں، ٹی ایم او نے صرف اپنی ذات کے لئے بندوبست کر رکھا ہے، ملازمین کو غلام سمجھا جا رہا ہے، ملازمین نے اہم اجلاس پیر کوطلب کرلیا

کوہاٹ(سٹاف رپورٹر)تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے ملازمین نے الزام عائد کیا ہے کہ سرکاری سبزی منڈی کی ناکامی میں ٹی ایم او خود ملی بھگت کا مظاہرہ کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود نجی سبزی منڈی کو تالے لگانے کی بجائے مختلف حیلے بہانوں سے سبزی منڈی کے مالک کو حکم امتناعی د لانے کے لیے وقت دیا جا رہا ہے ملازمین نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ موجودہ ٹی ایم او نے جب سے چارج سنبھالا ہے ٹی ایم اے بدحالی کا شکار ہے جس کی وجہ سے ملازمین کے گھروں میں نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ہے جس کے باعث ملازمین یونین نے احتجاجاََ ہڑتال اور ٹی ایم اے کی تالابندی کی دھمکی دیدی ہے اس سلسلے میں ٹی ایم اے ایمپلائز یونین نے پیر کو ملازمین کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے اس حوالے سے یونین کے سرپرست اعلیٰ فرزندعلی کیانی اور جنرل سیکرٹری سخی بادشا ہ نے روزنامہ بے باک آواز کو بتایا کہ موجودہ ٹی ایم او امین گل نے جب سے چارج سنبھالا ہے ٹی ایم اے تباہ حالی کا شکار ہے انہوں نے بتایا کہ آٹھ ماہ میں ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کے بقایاجات 80لاکھ سے بڑھ کرڈیڑھ کروڑسے تجاوز کر چکے ہیں سروس کے دوران جاں بحق ہونے والے ملازمین کی بیوہ اور بچوں کو فوری طور پر مالی امداد اور بقایاجات ادا کئے جاتے ہیں لیکن یہاں حال یہ ہے کہ کوہاٹ ٹی ایم اے کے دوملازمین دوران ملازمت انتقال کر چکے ہیں لیکن ان کے بچے اور بیوائیں گذشتہ ایک سال سے بقایاجات کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیںاور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ان کے گھروں کے چولہے ٹھندے ہوچکے ہیںاور ان کے گھروں میں فاقوں تک نوبت آچکی ہے یونین کے سرپرست اعلیٰ اور جنرل سیکرٹری نے مزید بتایا کہ غلط منصوبہ بندی سے ٹی ایم اے بدحالی کا شکار ہوتی جا رہی ہے اور اب ملازمین کی تنخواہیں بھی بروقت ادا نہیں کی جارہیں تنخواہوں کے لےے تحصیل پلازے کے اکاﺅنٹ سے رقم نکالی گئی حالانکہ یہ رقم شبستان پلازے کی تعمیر کیلئے رکھی گئی تھی انہوں نے مزید بتایا کہ کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے جس سے نہ صرف ٹی ایم اے اہلکار اپنے دفتروں میں گرمی سے بلبلا اٹھتے ہیں بلکہ کمپیوٹر سے متعلقہ کام بھی تاخیر کا شکار رہتے ہیں لیکن ٹی ایم او کو صرف اپنے دفتر میں اے سی اور بجلی کی فکر لاحق رہی باقی اہلکاروں کا پوچھا تک نہیںانہوں نے کہا کہ ٹی ایم او اہلکاروں کو اپنا ذاتی ملازم یا غلام سمجھ رہے ہیں سستا بازار پروگرام پورے صوبے میں ناکام رہا لیکن کوہاٹ میں صرف تین اہلکاروں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر انہیں معطل کیا گیا جبکہ ٹی ایم او ابھی تک حکام بالا کو اس بازار کی ناکامی کی وجہ بتانے کی جرات نہ کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ نجی سبزی منڈی کو عدالتی حکم کے باوجود تالے نہ لگائے جا سکے اور مذکورہ منڈی کی انتظامیہ کو جان بوجھ کر ڈھیل جارہی ہے حکام بالا اس کا بھی نوٹس لیں انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ملازمین کا اجلاس بلا لیا ہے اور پیر کو فیصلہ ہونے کی بعد احتجاجاََ کمیٹی کے تمام دفاتر کو تالے لگائے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں