کوہاٹ: بچوں کے گلے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ

ایک سال کے دوران پانچ بچوں کے گلے پر تیز دھار آلہ پھیر دیا گیا جس میں پانچ سالہ حسان شاہ زندگی کی بازی ہار گیا، ایک سال قبل لوگوں کا دباﺅ کم کرنے کے لیے سابق ایس ایچ او کینٹ محمد علی نے ایک پاگل شخص کو پکڑ کر سوشل میڈیا پر بیان دلوا یا تھا
محمد علی کے دعوے اس وقت ماند پڑ گئے جب عین اسی وقت دو مزید بچیوں کے گلے پر تیز دھار آلہ پھیر دیا گیا جب مزکورہ ذہنی مریض ملزم راولپنڈی کے آیت الزہرہ نامی نجی ہسپتال میں زیر علاج تھا، ایس ایچ او نے چوبیس گھنٹوں اندر ملزم پکڑنے کا اعلان کیا
چوبیس گھنٹے تو کیا بلکہ ایک سال گزر گیا لیکن پولیس اصل ملزم تک نہ پہنچ سکی جس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ بہاولنگر میں پانچ سالہ بچے حسان شاہ کو قتل کر دیا گیا، واقعے کے بعد ضلع بھر میں خوف وہراس کی فضا پھیل گئی، ملزم نے پولیس کو بھی سرگرداں کردیا،خصوصی رپورٹ

کوہاٹ(سٹاف رپورٹر)کوہاٹ شہر میں کمسن بچوں کے گلے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات سے خوف و ہراس پھیل گیا ہے والدین نے نہ صرف اپنے بچوں کو گھروں میں قید کر لیا ہے بلکہ بہاولنگر میں رونما ہونے والے دلخراش واقعے کے بعد عدم تحفظ کا شکار والدین بچوں کو سکول بھیجنے سے بھی کترانے لگے ہیں والدین نے ان واقعات میں ملوث مجرموں کی عدم گرفتاری کو پولیس کی نا اہلی قرار دیتے ہوئے ملزموں کی گرفتاری تک کچہری چوک میں دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا جوکہ شاید پولیس کی جانب سے کسی یقین دہانی کے بعد مؤخر کردیا گیا قارئین کو یاد ہوگا کہ چند روز قبل کوہاٹ

Hassan Shah in School dress
حسان شاہ والدین کا لاڈلا اور آخری بیٹا تھا

کے شہری علاقے بہاولنگر میں پانچ سالہ حسان شاہ نامی بچے کو اس وقت نامعلوم شخص نے گلے پر تیز دھار آلہ پھیر کر قتل کر دیا تھا جب وہ اپنے گھر میں داخل ہو رہا تھاپولیس رپورٹ کے مطابق ملزم ارتکاب جرم کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھااورتاحال پولیس کی گرفت میں نہ آسکا کوہاٹ پولیس کا ریکارڈ دیکھا جائے تو اس سے معلوم ہوگا کہ بچوں کے گلے کاٹنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی گزشتہ سال بہزادی چکر کوٹ

Hassaan shah killed

میں بچوں کے گلے کاٹنے کے واقعات رونما ہو چکے ہیںجن میں خوش قسمتی سے بچوں کی جانیں تو بچ گئیںلیکن وہ بچے عمر بھر کے لئے ایک خوف میں مبتلاءہوگئے پولیس ریکارڈ کے مطابق گذشتہ سال اکتوبر میں بہزادی چکر کوٹ کے محلہ تترخیل میں نامعلوم شخص نے چھ سالہ زوہیب نامی بچے کا گلہ کاٹ کر زخمی کر دیا تھا جس کے بعد اس وقت تھانہ کینٹ کے ایس ایچ او محمد علی نے ملزم ی گرفتاری کا دعویٰ کیا اور ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی جاری کر دی جس میں گرفتار شخص کو اقبال جرم کرتے ہوئے دکھایا گیا جس کے بعد اہل محلہ نے گرفتار شخص کو ذہنی مریض قرارHassaan Shah murder

دیتے ہوئے پولیس کی کارروائی کو مشکوک بنا دیا مذکورہ واقعے کو ابھی ایک ماہ بھی نہیں گزرا تھا کہ اس دوران بہزادی چکرکوٹ ہی کے محلہ جانس خیل کی پانچ سالہ صغریٰ اور طوبیٰ کے گلوں پر بھی نامعلوم شخص نے تیز دھار آلہ پھیر کر زخمی کر دیا جب دونوں واقعات کو باریک بینی سے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان واقعات میں حیرت انگیز طور پر مماثلت پائی جاتی ہے جبکہ اس دوران تھانہ کینٹ کے سابق ایس ایچ او محمد علی کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے پہلے ملزم کا علاج راولپنڈی کے ایک نجی ہسپتال آیت الزہرہ میں جاری تھا یہاں اگر تھانہ کینٹ کے سابق ایس ایچ او کا دعویٰ درست مان لیا جائے تو اہل محلہ کے مطابق دوسرے واقعہ رونما ہوتے وقت پہلا ملزم ہسپتال میں تھا جوکہ تین ماہ تک اسی ہسپتال میںزیر علاج رہا اور ہسپتال کی دستاویزات بھی میڈیا کے سامنے پیش کی گئیںتو سوال یہاں ییہ پیدا ہوتا ہے کہ نومبر 2017ءمیں بچیوں کے گلے کاٹنے کی واردات میں کون ملوث ہو سکتا ہے ابھی یہ تمام سوالات والدین اور میڈیا کے ذہن میں گردش کر رہے تھے کہ اس دوران اس وقت کے تھانہ کینٹ کے ایس ایچ او محمد علی نے ایک

Hassaan shah with his father

بار پھر چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اصل ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ کر ڈالالیکن چوبیس گھنٹے تو کیا پورا سال گزرنے کو ہے لیکن ابھی تک پولیس اصل ملزم تک نہ پہنچ سکی شاید اسی لیے پولیس کی ناکامی کو دیکھ کر ملزم ایک بار پھر حرکت میں آگیا اور بہزادی چکرکوٹ ہی میں ایک پیش امام کے بچے کیساتھ اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ پیش آیا لیکن زخم گہرا نہ ہونے کی وجہ سے معاملہ رفع دفع کردیاگیااور پولیس حکام نے بھی اس معاملے میں سنجیدگی نہیں دکھائی جس کا نتیجہ 25اگست کو بہاولنگر میں ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کی رہائش گاہوں سے چند سو گز کے فاصلے پر پانچ سالہ حسان شاہ کا گلہ کاٹ کر قتل کرنے کی صورت میں سامنے آگیامذکورہ واقعات کے بعد خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے پولیس ریفامز اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے دعووں پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں