رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

مریضوں کی خدمت کے لیے بیٹھا ہوا تھا کہ اس دوران رکن صوبائی اسمبلی ضیاءاللہ بنگش اپنے لوگوں کیساتھ آئے اور مجھے پیٹنا شروع کردیا، کمال حسین

کوہاٹ(سٹاف رپورٹر) رکن صوبائی اسمبلی ضیاء اللہ بنگش پر تشدد کا الزام عائد کرنے والے فارمیسی ٹیکنیشن کمال حسین نے کہا ہے کہ جس وقت رکن اسمبلی ضیاءاللہ بنگش، اس کا بھائی کلیم اللہ گن مین اور ان کیساتھ آئے ہوئے دیگر افراد ان پر تشدد کررہے تھے اس وقت کے تمام مناظر لیاقت وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں میں فلمبند ہیں لیکن ہسپتال انتظامیہ یہ مناظر منظر عام پر لانے کے لیے تیار تیار نہیں اس حوالے سے ہسپتال کے ڈپٹی ایم ایس ڈاکٹر اکرام بھی تعاون نہیں کررہے.
یہ باتیں انہوں نے آج منگل کے روز پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیں.
اس موقع پر استرزئی اور چکرکوٹ بالا سے تعلق رکھنے والے عمائدین علاقہ بھی پریس کلب میں موجود تھے کمال حسین نے کہا کہ وہ ایمرجنسی وارڈ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران ضیاءاللہ بنگش، ان کا بھائی کلیم اللہ بنگش، سیکرٹری افتخار اورگارڈ نے باتوں باتوں میں ان پرتشدد شروع کر دیا اور انہیں زدو کوب کیا جس کے مناظر سی سی ٹی وی کیمروں میں دیکھے جا سکتے ہیں لیکن ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹراکرام وہ فوٹیج میڈیا کے سامنے نہیں لانا چاہتے.
اس سوال کے جواب میں وہ میڈیا کو مطمئین نہ کر سکے کہ آخر کیوں ضیاءاللہ بنگش نے آتے ہی انہیں مارنا شروع کردیا اس موقع پر موجود دیگر عملے کو کچھ کیوں نہیں‌کہا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں