وزیراعلیٰ کون؟ ضیاءاللہ بنگش کا نام بھی گردش کرنے لگا

کوہاٹ(سٹاف رپورٹر)عام انتخابات کے نتائج آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف مرکز، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کے لیے مصروف ہوگئی ہے جس کے لیے خیبر پختونخوا کی وزارت اعلیٰ کے لیے مختلف نام سامنے آرہے ہیں جن میں تمام امیدواروں کا تعلق پشاور سے مالاکنڈ تک مختلف علاقوں سے ہے تاہم اس عہدے کے لیے جنوبی اضلاع سے بھی آواز اٹھنے لگی ہے.
جنوبی اضلاع کے جنون کا کہنا ہے کہ اگر چہ اس حلقے کو مذہبی جماعتوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود کپتان کے سپاہیوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے امیدواروں کو کامیاب کرایا. اس کے ساتھ ساتھ ہمیشہ اس حلقے کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے اور مفتی محمود مرحوم اور اکرم خان درانی کے بعد جنوبی اضلاع کو کبھی وزارت اعلیٰ کے اعزاز سے نہیں نوازہ گیا یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ خصوصی طور پر کوہاٹ اور کرک اضلاع نہ صرف صوبے بلکہ ملک کو تیل و گیس کی مد میں اربوں روپے آمدن دے رہے ہیں اس کے باوجود جنوبی اضلاع کو نظر انداز کرنا زیادتی تصور ہوگی.
دوسری جانب یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جنوبی اضلاع سے ضیاءاللہ بنگش وہ واحد ایم پی اے ہیں جوکہ وزارت اعلیٰ کے لیے موزوں‌قرار دیئے جا سکتے ہیں جوکہ نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں بلکہ حکومت اور سماجی حوالے سے وسیع تجربہ رکھتے ہیں اس لیے اگر انہیں وزارت اعلیٰ کا قلمدان دیا جائے تو نہ صرف صوبے کے لیے ایک بہترین وزیراعلیٰ ثابت ہونگے بلکہ جنوبی اضلاع کی عوام کی محرومی بھی دور کی جاسکے گی.

اپنا تبصرہ بھیجیں