کوہاٹ: قومی حلقے پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کل ہوگی

قومی نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے شہریار آفریدی، پاکستان مسلم لیگ ن کے عباس آفریدی اور متحدہ مجلس عمل کے گوہر سیف اللہ خان کے مابین کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی تھی
ریٹرننگ آفیسر نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست منظور کرلی ہے جس کے بعد احتجاج کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا،دھاندلی کسی اور نے کی ہے ، عوام کو کیوں تکلیف دیں، گوہر سیف اللہ بنگش

کوہاٹ(جنرل رپورٹر)کوہاٹ کے قومی حلقے میں دوبارہ گنتی کی درخواست منظور ہونے کے بعد متحدہ مجلس عمل نے احتجاج کی کال واپس لے لی جبکہ ن لیگ کے کارکن احتجاج کی کال کے انتظار میں رہیں گے۔اس حوالے سے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کوہاٹ کے قومی حلقے کے انتخابی نتائج کو غیر متوقع قرار دیتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات لگائے گئے جس کے بعد متحدہ مجلس عمل کے امیدوار گوہر سیف اللہ خان اور دیگر عہدیداروں نے پشاور چوک سے کوہاٹ پریس کلب تک احتجاجی مظاہرہ کیا اور تیس جولائی کو انڈس ہائی وے بلاک کرنے کی دھمکی دی تاہم بعد ازا ں ان کی جانب سے احتجاج کی کال یہ کہہ کر واپس لے لی گئی کہ ریٹرننگ آفیسر نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست منظور کرلی ہے جس کے بعد احتجاج کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا بے باک آواز کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کے امیدوار گوہر سیف اللہ خان کا کہنا تھا کہ جب ریٹرننگ افسر نے ان کی دوبارہ گنتی کی درخواست منظور کر لی ہے تو پھر احتجاج نہیں کرنا چاہیے ان کا کہنا تھا کہ اس دھاندلی میں عوام تو ملوث نہیں تو پھر احتجاج کرتے ہوئے اپنی عوام کو تکلیف دی جائے سب لوگ جانتے ہیں کہ دھاندلی کس نے کرائی ہے دوسری جانب ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکن بھی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے انتظار میں رہےں گے اور مقررہ تاریخ یعنی تیس جولائی کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہ کی گئی تو احتجاج کے لیے سڑکوں پر آئیں گے تاہم ابھی تک ن لیگ کے کسی بھی عہدیدار کی جانب سے احتجاج کے لیے باقاعدہ کال نہیں چلائی گئی یاد رہے کہ کوہاٹ کی قومی نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے شہریار آفریدی، پاکستان مسلم لیگ ن کے عباس آفریدی اور متحدہ مجلس عمل کے گوہر سیف اللہ خان کے مابین کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی تھی انتخابی نتائج سامنے آنے پر معلوم ہو ا کہ شہریار آفریدی تیس ہزار سے زیادہ کی لیڈ پر دونوں امیدواروں کو پیچھے چھوڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں جس کے بعد دونوں جماعتوں کی جانب سے ان پر دھاندلی کے الزامات لگائے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں