الیکشن 2018، کون جیتے گا این اے 32 کا معرکہ؟

کوہاٹ کے قومی حلقے این اے 32میں کانٹے دار مقابلے کے لیے دس امیدوار اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں، سیاسی ماہرین کے مطابق تین جماعتوں کے مابین سخت مقابلے کی توقع
پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے امیدوار سیاست کے داﺅ پیچ سے بخوبی واقف ہیں اور تینوں کسی نہ کسی صورت اقتدار میں رہ چکے ہیں
عباس آفریدی سینیٹر اور وفاقی وزیر رہ چکے ہیں پاکستان تحریک انصاف کے شہریار آفریدی رکن قومی اسمبلی اور متحدہ مجلس عمل کے نامزد امیدوار گوہر اللہ خان بنگش کوہاٹ کے ضلع ناظم رہ چکے ہیں
تینوں امیدوار اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اور لوگوں سے مختلف قسم کے وعدے کئے جا رہے ہیں،گھر گھر امیدواروں کے حوالے سے تجزیے ہونے لگے
شہریار آفریدی تبدیلی، گوہر سیف اللہ بنگش نظام مصطفی کی بات کرتے رہے، ریلوے بحالی، سویٹ ہوم، بجلی و گیس منصوبوں کی فراہمی عباس آفریدی کی تقریروں کا موضوع رہا، خصوصی رپورٹ

کوہاٹ(سٹاف رپورٹر)کوہاٹ کے قومی حلقے این اے 32میں کانٹے دار مقابلے کے لیے دس امیدوار اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں تاہم سیاسی ماہرین کے مطابق تین جماعتوں کے مابین کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی ہے جن میں پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ مجلس عمل شامل ہیں ان جماعتوں کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے امیدوار سیاست کے داﺅ پیچ سے بخوبی واقف ہیں اور تینوں کسی نہ کسی صورت اقتدار میں رہ چکے ہیںجن میں عباس آفریدی سینیٹر اور وفاقی وزیر رہ چکے ہیں پاکستان تحریک انصاف کے شہریار آفریدی رکن قومی اسمبلی اور متحدہ مجلس عمل کے نامزد امیدوار گوہر اللہ خان بنگش کوہاٹ کے ضلع ناظم رہ چکے ہیںسیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تینوں امیدوار اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اور لوگوں سے مختلف قسم کے وعدے کئے جا رہے ہیں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار شہریار خان آفریدی کا کہنا ہے وہ اقتدار میں آکر تبدیلی لائیں گے اور نئے پاکستان کی بنیاد رکھیں گے دوسری جانب امیدواروں کے جلسے جلوسوں اور کارنر میٹنگز پر الیکشن کمیشن کی جانب سے پابندی سے پہلے اپنی الیکشن مہم میں گوہر سیف اللہ خان نے لوگوں سے نظام مصطفی کے قیام کے وعدے کیے عباس آفریدی کے جلسوں میں یہ بات دیکھنے کو ملی کہ انہوں نے کوہاٹ میں ریل کار سروس کی بحالی، خوشحال گڑھ پل کی تعمیر، ےتیم بچوں کے لیے سویٹ ہوم کا قیام، سٹیٹ لائف کے ریجنل دفتر، درجنوں دیہات کو گیس اور بجلی کے منصوبوں کی منظوری ان کے بڑے کارنامے ہیں جبکہ اقتدار میں آکر وہ چھ ماہ کے اندر کوہاٹ میں انڈسٹریل زون قائم کریں گے جس سے بے روزگاری میں کمی واقع ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس کا وعدہ سچا ہے کس سے عوام مطمئن ہے اور وہ کس کے سر پر اقتدار کا تاج رکھتی ہے کیونکہ تینوں اقتدار میں رہ چکے ہیں اور تینوں نے عوام کے لیے اپنے دور اقتدار میں کتنے کام کئے اس کا اثر لازمی اس الیکشن کے نتیجے پر ہوگا۔تاہم ایک سروے کے مطابق عباس آفریدی کی پوزیشن مضبوط بتائی جا رہی ہے کیونکہ انہوں نے ہر جلسے میں اپنے منصوبوں کا ذکر کیا ہے جبکہ باقی ماندہ امیدوار اقتدار میں رہنے کے باوجود اپنے قابل قدر منصوبوں کا ذکر نہ کر سکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں